وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اللہ کرے وزیراعظم میاں شہباز شریف اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے درمیان ہونے والی ملاقات کے مثبت نتائج سامنے آئیں۔ دعا بھی ہے اور کوشش بھی کہ صوبائی حکومت خیبرپختونخوا عوامی مسائل پر سیاست کرے، اگر صوبائی حکومت صوبے کے عوام کے حق میں بات کرے تو وفاق کو کوئی اختلاف نہیں ہوگا۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دو روز قبل سیکیورٹی فورسز نے بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کی جس کے نتیجے میں امن دشمن عناصر 170 لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ بھی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق میں بھارت کو بھرپور جواب دیا اور اب بھارت اپنی شکست کا بدلہ پراکسیز کے ذریعے لینا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان اور بھارت دونوں بلوچستان میں متحرک ہو چکے ہیں اور پاکستان اس محاذ پر بھی ان کے خلاف برسرپیکار ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہاں بھی دشمن کو شکست دی جائے گی اور کلبھوشن یادیو پاکستان کے پاس بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اللہ کرے بلوچستان میں منتخب قیادت اور اکابرین مل کر دہشت گردی کے خلاف متحد ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اکابرین کے تحفظات مقامی قیادت کو دور کرنے ہوں گے جبکہ وفاق بھی اپنا آئینی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے دہشت گردوں سے مذاکرات کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں سے بات کرنا غیرقانونی اور غیر انسانی اقدامات کا تحفظ کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ ٹرینیں اور گاڑیاں روک کر بے گناہ شہریوں کو قتل کرتے ہیں، ان سے کون مذاکرات کرے گا۔ اگر وہ آئرلینڈ کی طرح پاکستان کے جھنڈے تلے آتے ہیں تو بات ہو سکتی ہے، ورنہ یہ پاکستان کی وحدت کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عناصر ریاست کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں۔
خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ بعض بلوچ لیڈر دہلی میں بیٹھے ہیں، وہیں کے اسپتالوں میں علاج کراتے ہیں اور وطن دشمن قوتوں کے ساتھ روابط رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وطن دشمنوں سے دوستی کرنے والوں کے ساتھ دشمنوں جیسا ہی سلوک کیا جاتا ہے اور پاکستان بھی ان کے ساتھ وہی کرے گا جو دشمنوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ بھارت اور افغانستان پاکستان کے دشمن ہیں اور اگر دہشت گرد ان دشمن ممالک کے ایجنٹ بن کر کام کریں گے تو مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں امن قائم ہو کر رہے گا اور صوبے میں ترقیاتی کاموں کو مزید تیز کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل پر بلوچ عوام کا مکمل حق ہے، جمہوریت بھی ان کا حق ہے۔ صوبے میں اسپتال بنے، سڑکوں کا جال بچھایا گیا اور سڑکوں کی مجموعی لمبائی 500 کلومیٹر سے بڑھ کر 26 ہزار کلومیٹر تک پہنچ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان کی اسپانسرڈ فورسز استعمال ہو رہی ہیں تو پاکستان بھی پوری طاقت سے جواب دے رہا ہے۔