بلوچستان میں 8 ٹریلین ڈالر کے معدنی وسائل: امریکی ہتھیاروں سے لیس دہشت گرد ترقی کے راہ میں رکاوٹ، سی این این کی رپورٹ

بلوچستان میں 8 ٹریلین ڈالر کے معدنی وسائل: امریکی ہتھیاروں سے لیس دہشت گرد ترقی کے راہ میں رکاوٹ، سی این این کی رپورٹ

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں 8 ٹریلین ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر کے قریب دہشت گرد گروہ بی ایل اے امریکی ساختہ ہتھیاروں کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ ذخائر تانبہ، لیتھیئم، سونا، کوبالٹ اور دیگر اہم معدنیات پر مشتمل ہیں جن کی دنیا کو فوری ضرورت ہے۔

سی این این کی رپورت کے مطابق بلوچستان میں موجود یہ معدنیات ملکی معیشت کو بدل سکتی ہے اور طویل مدتی مالی دباؤ کو کم کر سکتی ہے۔ امریکہ بھی ان معدنیات کو ٹیکنالوجی، دفاع اور صاف توانائی کی صنعتوں کے لیے نہایت اہم سمجھتا ہے۔ اس مشترکہ مفاد نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔

تاہم، ان میں سے زیادہ تر معدنی ذخائر سرحدی علاقوں میں واقع ہیں جو دہشت گردی اور شورش زدہ حالات سے متاثر ہیں۔ یہ علاقے دہائیوں سے شورش زدہ ہیں اور 2021 میں امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی۔ اس دوران بڑی مقدار میں جدید اسلحہ وہاں چھوڑ دیا گیا۔

بعد ازاں عسکری گروہوں بالخصوص بی ایل اے نے امریکی ساختہ رائفلیں، مشین گنیں اور سنائپر ہتھیار حاصل کر لیے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے متعدد آپریشنز کے دوران ان ہتھیاروں کو برآمد کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار معدنی ذخائر والے علاقوں میں عسکری حملوں کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بارکھان میں پاکستان و پاک افواج زندہ باد ریلی کا انعقاد، ہزاروں افراد کی شرکت، دہشت گردی کے خلاف بھرپور عزم کا اظہار

سی این این کی رپورٹ کے مطابق بی ایل اے کی جانب سےدہشتگردی کی کاروائیاں ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ پاکستان میں ان دہشتگرد حملوں میں سیکڑوں شہری اور سیکیورٹی اہلکار جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے گروہ بنیادی ڈھانچے اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

سی این این کی رپورٹ میں پاکستان کے سیکیورٹی حکام سے منسوب کرتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے پاس اب امریکی ساختہ M-16 اور M-4 کاربائن ہیں۔حالیہ ہفتے کے اختتام پر بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے حملوں میں 33 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں نہ صرف وسیع معدنی امکانات موجود ہیں بلکہ سنگین سیکیورٹی خطرات بھی ہیں۔ وہ صوبے کو مستقبل کے وسائل کی مقابلہ بازی اور عسکری تصادم کا مرکز قرار دیتے ہیں۔

ماہرین اس صورتحال کو پیچیدہ قرار دیتے ہیں۔ اٹلانٹک کونسل کے مائیکل کیوگلمین کے مطابق، بلوچستان معدنی وسائل اور عسکری خطرات دونوں کے لیے “گراؤنڈ زیرو” ہے۔ سابق امریکی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان ریکنسٹراکشن، جان سوپکو نے کہا کہ تقریباً 300,000 ہتھیار افغانستان میں چھوڑے گئے اور انہوں نے اسے دنیا کی سب سے بڑی ہتھیار کی منڈی قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کی ناراضگی مسترد، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر چین پہنچ گئے

پاکستان کی فوج نے یقین دلایا ہے کہ وہ معدنی ذخائر والے علاقوں کو محفوظ کرے گی اور عالمی معیار کی کان کنی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کرے گی۔

پاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق، افغانستان اب دنیا کا سب سے بڑا اسلحے کا بازار بن چکا ہے، جہاں دہشت گرد اور باغی اپنی تنظیموں کو ہتھیار فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی معدنیات سے مالا مال علاقوں اور کان کنی کے انفراسٹرکچر کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا تاکہ یہ عالمی معیار کے مطابق رہیں۔

Related Articles