دُنیا ایک بار پھر خطرناک وبا کی لپیٹ میں آنے والی ہے، یہ مہلک وائرس کیا ہے ماہرین نے بتا دیا

دُنیا ایک بار پھر خطرناک وبا کی لپیٹ میں آنے والی ہے، یہ مہلک وائرس کیا ہے ماہرین نے بتا دیا

ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ عالمی وبا کسی نئے وائرس سے نہیں بلکہ چیچک سے ملتے جلتے پرانے اور نظرانداز شدہ وائرسز سے جنم لے سکتی ہے، ایک ایسی بیماری جسے دنیا کبھی مکمل طور پر ختم شدہ سمجھ چکی تھی۔

سائنس دانوں کے مطابق قوتِ مدافعت میں مسلسل کمی اور آرتھوپاکس وائرس خاندان کے دیگر وائرسز کا پھیلاؤ مستقبل میں ایک سنگین عالمی صحت بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:محمد نواز کی گیند، کوپر کونولی کا خواجہ نافع کے ہاتھوں اسٹمپ آؤٹ، کرکٹ دُنیا 2 حصوں میں بٹ گئی

چیچک، جسے طبی اصطلاح میں ویرئیولا کہا جاتا ہے، کو 1980 میں عالمی ادارۂ صحت نے باضابطہ طور پر ختم شدہ بیماری قرار دیا تھا۔ یہ کامیابی عالمی سطح پر چلائی گئی ویکسینیشن مہم کا نتیجہ تھی، جسے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی عوامی صحت کی کامیابیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم اس کامیابی کے بعد بیشتر ممالک میں چیچک کے خلاف معمول کی ویکسینیشن روک دی گئی، جس کے اثرات اب سامنے آ رہے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، ویسے ویسے وہ نسلیں بڑی ہوتی گئیں جن کے جسم میں چیچک یا اس سے ملتے جلتے وائرسز کے خلاف کوئی قدرتی یا ویکسین سے پیدا شدہ قوتِ مدافعت موجود نہیں۔ اس خلا نے آرتھوپاکس وائرس خاندان کے دیگر وائرسز کو انسانوں میں پھیلنے کا نیا موقع فراہم کیا۔

اس خاندان میں مونکی پاکس نمایاں مثال ہے، جس نے حالیہ برسوں میں افریقہ، یورپ، امریکا اور ایشیا کے مختلف حصوں میں وبائی شکل اختیار کی۔ اس کے علاوہ بھینس پاکس، اونٹ پاکس اور بوریل پاکس جیسے کم معروف مگر خطرناک وائرسز بھی اسی خاندان کا حصہ ہیں۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ ان میں سے کوئی وائرس جینیاتی ارتقا کے نتیجے میں زیادہ متعدی، زیادہ مہلک یا انسانی آبادی کے لیے زیادہ موزوں ہو سکتا ہے۔

اگرچہ چیچک قدرتی طور پر اب دنیا میں گردش نہیں کر رہی، لیکن یہ وائرس مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہوا۔ اس کے محدود نمونے دنیا کی چند انتہائی محفوظ تجربہ گاہوں میں سخت حفاظتی انتظامات کے تحت محفوظ ہیں۔ ان تجربہ گاہوں تک رسائی نہایت محدود ہے، جس کے باعث قدرتی یا حادثاتی اخراج کا امکان انتہائی کم سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دُنیا بھر میں کرونا کے بعد ’’سپرفلو‘‘ کا پھیلاؤ، پاکستان میں این آئی ایچ کی خصوصی ایڈوائزری جاری

اس کے باوجود ماہرین تاریخ کی تلخ حقیقت کو نظرانداز کرنے کے حق میں نہیں۔ صرف بیسویں صدی میں چیچک کے باعث دنیا بھر میں اندازاً پچاس کروڑ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس بیماری کی تیز رفتار منتقلی، شدید علامات اور بلند شرحِ اموات نے اسے انسانی تاریخ کی سب سے خوفناک بیماریوں میں شامل کر دیا تھا۔

عالمی صحت کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ چیچک کی براہِ راست واپسی کا امکان کم ہے، لیکن اس جیسے وائرسز وہی حالات دوبارہ پیدا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ دنیا نے نگرانی، تحقیق اور تیاری کو نظرانداز کیا۔ ماہرین مسلسل نگرانی، آرتھوپاکس وائرسز کی بہتر مانیٹرنگ، جدید ویکسین تحقیق اور عالمی سطح پر صحت کے نظام میں دوبارہ سرمایہ کاری پر زور دے رہے ہیں، خاص طور پر ان خطوں میں جہاں قوتِ مدافعت نہ ہونے کے برابر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وباؤں سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ خوف نہیں بلکہ پیشگی تیاری، سائنسی تحقیق اور عالمی تعاون ہے، کیونکہ وائرس سرحدیں نہیں دیکھتے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *