ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کا چارج سنبھالتے پہلا بڑا فیصلہ

ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کا چارج سنبھالتے پہلا بڑا فیصلہ

ایف آئی اے کے سربراہ کی تبدیلی کے ساتھ ہی ادارے میں خود احتسابی کا عمل غیر معمولی طور پر تیز کر دیا گیا ہے۔ نئے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے چارج سنبھالتے ہی دور رس فیصلہ کیا ہے جسے ادارے کی تاریخ میں ایک بڑی اصلاح قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے میں اہلکاروں کی معطلی کا اختیار اب نچلی سطح پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت وہ اتھارٹی جو کسی اہلکار کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کرنے کی مجاز ہوگی، اب وہی اتھارٹی ابتدائی طور پر اس اہلکار کو معطل بھی کر سکے گی۔ اس اقدام کا مقصد تاخیری حربوں کا خاتمہ اور فوری احتساب کو یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آئی جی پنجاب اور ڈی جی ایف آئی اے کے اہم عہدوں پر نئی تقرریاں،نوٹفکیشن جاری

نئے قواعد کے مطابق کسی بھی اہلکار کی ابتدائی معطلی کی مدت 120 دن مقرر کر دی گئی ہے، جس دوران تحقیقات مکمل کی جائیں گی۔ اس سے قبل معطلی کے معاملات اعلیٰ سطح پر الجھ کر طویل عرصے تک لٹکے رہتے تھے، جس سے نہ صرف ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی تھی بلکہ احتسابی عمل بھی کمزور پڑ جاتا تھا۔

مزید برآں، فوجداری مقدمات میں ایک انتہائی اہم شق شامل کی گئی ہے، جس کے تحت کسی بھی ایف آئی اے اہلکار کے جیل جانے یا گرفتار ہونے کی صورت میں وہ اہلکار گرفتاری کے دن سے خود بخود معطل تصور ہوگا۔ اس فیصلے کو زیرو ٹالرنس پالیسی کا واضح اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کا تعلق پولیس سروس سے ہے اور وہ اس سے قبل آئی جی پنجاب کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جہاں ان کے دور میں سخت نظم و ضبط اور احتسابی اقدامات نمایاں رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہی تجربات کی بنیاد پر ڈاکٹر عثمان انور نے ایف آئی اے میں بھی کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور اندرونی بے ضابطگیوں کے خلاف سخت لائن اختیار کی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *