جنوب مشرقی ایشیا کے پراسرار علاقے ’’پلان آف جارز‘‘ میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک بڑا اور حیران کن انکشاف کیا ہے، جہاں ایک قدیم پتھریلے مرتبان سے کم از کم 37 انسانوں کی ہڈیاں اور دانت برآمد ہوئے ہیں۔
یہ دریافت ایک جنگل میں کھدائی کے دوران سامنے آئی، جہاں صدیوں پرانے بڑے بڑے پتھریلے مرتبان زمین پر بکھرے ہوئے ملتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ مقام پہلے ہی اپنی پراسرار تاریخ کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
تحقیق کے مطابق انسانی باقیات پر کی گئی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ہڈیاں تقریباً 890 سے 1160 عیسوی کے درمیان کی ہیں، یعنی اس دور کی جب دنیا کے کئی حصوں میں بڑی تاریخی تبدیلیاں جاری تھیں۔
ماہرین نے جس مرتبان کو ’ڈیتھ جار‘ یا جا نمبر 1 کا نام دیا ہے، وہ تقریباً 1.3 میٹر اونچا اور 2 میٹر چوڑا ہے۔ اس کے اندر انسانی باقیات کی بڑی مقدار نے اسے دیگر دریافتوں سے منفرد بنا دیا ہے۔
تحقیق کے شریک مصنف اور ماہرِ آثارِ قدیمہ نکلس اسکوپل کے مطابق یہ اب تک لاؤس میں ملنے والے سب سے بڑے اور غیر معمولی مرتبانوں میں سے ایک ہے، جس کی ساخت اور اندر موجود مواد اسے مزید پراسرار بنا دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت نے’’پلان آف جارز‘‘کے بارے میں پہلے سے موجود کئی سوالات کو مزید گہرا کر دیا ہے، اور اس قدیم تہذیب کے رسم و رواج پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔