حکومت نے بجلی کے بلوں پر سبسڈی کی فراہمی کے نظام کو مزید شفاف بنانے اور اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل طریقہ کار متعارف کرایا ہے، جس کے تحت QR کوڈ سسٹم کے ذریعے مستحق صارفین کی تصدیق کی جائے گی۔
نجی ٹی وی کے مطابق اس نئے نظام کا اطلاق وفاقی کراس سبسڈی پروگرام 2026 کے تحت کیا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ حکومتی ریلیف صرف حقیقی مستحق افراد تک پہنچے۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس اسکیم کے تحت ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو سبسڈی کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے۔
ان صارفین کے بجلی بلوں پر خصوصی QR کوڈ پرنٹ کیا جائے گا، جسے اسکین کر کے وہ اپنے ریلیف کے لیے رجسٹریشن کر سکیں گے، اس اقدام سے ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی بھی ہوگی جو ایک ہی گھر میں متعدد میٹرز کے ذریعے غیر ضروری طور پر سبسڈی حاصل کرتے ہیں۔
نئے طریقہ کار کے مطابق صارف جب اپنے بل پر موجود QR کوڈ کو اسکین کرے گا تو وہ ایک سرکاری پورٹل پر منتقل ہو جائے گا، جہاں اسے اپنا 14 ہندسوں کا ریفرنس نمبر اور شناختی کارڈ کی تفصیلات درج کرنا ہوں گی۔
تصدیقی عمل مکمل کرنے کے لیے صارف کے موبائل نمبر پر ایک ون ٹائم پاس ورڈ (OTP) بھیجا جائے گا، جس کے بعد اس کی رجسٹریشن مکمل تصور کی جائے گی۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ سبسڈی کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ بجلی کے بل پر درج نام اور شناختی کارڈ پر موجود نام میں مطابقت ہو، بصورت دیگر رجسٹریشن میں مسائل پیش آ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ حکومت نے ان صارفین کے لیے بھی سہولت فراہم کی ہے جو اسمارٹ فون یا ڈیجیٹل نظام سے واقف نہیں ہیں، ایسے افراد کی مدد کے لیے ضلعی انتظامیہ کے دفاتر اور یونین کونسل کی سطح پر خصوصی فیسیلیٹیشن ڈیسک اور ہیلپ کیمپس قائم کیے گئے ہیں، وہاں پر عملہ شہریوں کو رجسٹریشن کے عمل میں مکمل رہنمائی فراہم کرے گا۔
پاور ڈویژن کے مطابق اگر کسی وجہ سے QR کوڈ اسکین نہ ہو سکے تو صارفین آفیشل پورٹل پر جا کر دستی طور پر بھی اپنی تفصیلات درج کر کے سبسڈی کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔