سعودی شہزادے نواف بن نائف انتقال کر گئے، ریاض میں نمازِ جنازہ اور تدفین کا اعلان

سعودی شہزادے نواف بن نائف انتقال کر گئے، ریاض میں نمازِ جنازہ اور تدفین کا اعلان

سعودی شاہی خاندان (آلِ سعود) کے اہم رکن شہزادہ نواف بن نائف بن ممدوح بن عبدالعزیز آلِ سعود انتقال کر گئے ہیں۔

سعودی عرب کے شاہی ایوان (دیوانِ شاہی) نے شہزادے کے انتقال کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے حوالے سے تفصیلی اعلامیہ جاری کر دیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔

نمازِ جنازہ کا شیڈول اور سرکاری اعلامیہ

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’سعودی پریس ایجنسی‘ (ایس پی اے) کی جانب سے جاری کردہ شاہی بیان کے مطابق مرحوم شہزادے کی آخری رسومات کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق شہزادہ نواف بن نایف بن ممدوح بن عبدالعزیز آلِ سعود کی آج (منگل) 26 مئی 2026 کو تدفین ہوگی، نماز جنازہ بعد نمازِ عصر ادا کی جائے گی، ان کی نمازِ جنازہ جامع مسجد امام ترکیہ بن عبداللہ، ریاض میں ادا کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی ثالثی کے حامی ہیں، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان

شاہی اعلامیے کے مطابق نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے فوراً بعد خاندانی قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں لائی جائے گی۔ جنازے میں شاہی خاندان کے سینیئر ارکان، حکومتی عہدیداران اور اہم شخصیات شرکت کریں گی۔

آلِ سعود اور شہزادہ نواف بن نائف کا شجرہِ نسب

شہزادہ نواف بن نائف کا تعلق سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آلِ سعود کے خاندان کی اہم شاخ سے ہے۔ وہ شہزادہ نائف بن ممدوح کے بیٹے اور شہزادہ ممدوح بن عبدالعزیز کے پوتے ہیں۔

شہزادہ ممدوح بن عبدالعزیز (مرحوم) شاہ عبدالعزیز کے 31 ویں بیٹے تھے اور وہ تبوک کے سابق گورنر رہنے کے ساتھ ساتھ شاہی خاندان میں اپنی علمی اور مذہبی خدمات کے حوالے سے انتہائی قابلِ احترام شخصیت مانے جاتے تھے۔

اس لحاظ سے شہزادہ نواف بن نائف موجودہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے بھتیجے کے بیٹے (پوتے) اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے کزن کے بیٹے ہیں۔

سعودی شاہی خاندان میں نوجوان نسل کے یہ شہزادے مختلف سماجی، فلاحی اور کاروباری شعبوں میں متحرک کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

شاہی ایوان کے پروٹوکولز اور عوامی ردِعمل

سعودی عرب میں کسی بھی شاہی رکن کا انتقال محض ایک خاندانی صدمہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ریاستی امور اور سفارتی پروٹوکولز کا حصہ بن جاتا ہے۔

دیوانِ شاہی کی طرف سے فوری طور پر باضابطہ بیان کا جاری ہونا اور دارالحکومت ریاض کی مرکزی مسجد (امام ترکیہ بن عبداللہ) کا انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ مرحوم شہزادے کو شاہی روایت کے مطابق مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ رخصت کیا جا رہا ہے۔

انتظامی نقطہِ نظر

سعودی روایات کے مطابق شاہی خاندان کے ارکان کی نمازِ جنازہ میں عام طور پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز یا ولی عہد محمد بن سلمان خود یا ان کا کوئی خصوصی نمائندہ (ریاض کے گورنر) لازمی شرکت کرتے ہیں۔

جامع مسجد امام ترکیہ بن عبداللہ تاریخی طور پر آلِ سعود کی جنازہ گاہ کے طور پر جانی جاتی ہے جہاں تمام اہم شاہی شخصیات کی آخری رسومات ادا ہوتی ہیں۔

شہزادہ نواف کے انتقال پر خلیجی ممالک (جیسے متحدہ عرب امارات، کویت، اور قطر) کے حکمرانوں کی طرف سے بھی تعزیتی پیغامات کی آمد متوقع ہے، جو خطے میں سعودی شاہی خاندان کے گہرے اثر و رسوخ اور خاندانی روابط کی عکاسی کرتا ہے۔

Related Articles