جنرل ٹکا نے کیسے بلوچستان میں دہشتگردی ختم کی؟ ابو بکر قسام کے ہوشربا انکشافات

جنرل ٹکا نے کیسے بلوچستان میں دہشتگردی ختم کی؟ ابو بکر قسام کے ہوشربا انکشافات

ہمارے دیہاتوں میں ایک کہاوت عام ہے کہ جب جسم کے کسی حصے میں گینگرین (Gangrene) یا زہر پھیلنے لگے، تو پھر نیم حکیموں کی مرہم پٹی یا درد کش ادویات سے کام نہیں چلتا۔ ایسے میں ایک ماہر اور بے رحم سرجن کی ضرورت ہوتی ہے جو کینسر زدہ حصے کو کاٹ کر جسم سے الگ کر دے، تاکہ باقی انسان کو موت سے بچایا جا سکے۔ ریاستیں بھی جب اپنی بقا کی جنگ لڑتی ہیں، تو انہیں سیاسی مصلحتوں کی میٹھی گولیوں کے بجائے ایسے ہی فیصلہ کن اور آہنی سرجنز کی ضرورت پڑتی ہے۔

1973 میں پاکستان ایک بار پھر ایسے ہی ایک ناسور کا سامنا کر رہا تھا۔ مشرقی پاکستان کٹنے کا زخم ابھی ہرا تھا، اور ادھر بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں پر غیر ملکی فنڈنگ، بیرونی سازشوں اور تخریب کاری کے بل بوتے پر ایک باقاعدہ مسلح بغاوت نے سر اٹھا لیا تھا۔ یہ کوئی جمہوری یا سیاسی تحریک نہیں تھی، بلکہ ریاست کی عملداری (Writ of the State) کو چیلنج کرنے والی کھلی دہشت گردی تھی۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بخوبی اندازہ تھا کہ اس بغاوت کو اگر نرمی سے ڈیل کیا گیا، تو ملک کی سالمیت داؤ پر لگ جائے گی۔

اس نازک ترین موڑ پر اس آپریشن کی کمان آرمی چیف جنرل ٹکا خان نے سنبھالی۔ ٹکا خان کا سب سے بڑا اثاثہ اور ان کی حکمت عملی کی سب سے بڑی طاقت ان کا مشرقی پاکستان (بنگال) کا تلخ مگر انتہائی گہرا تجربہ تھا۔ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے کہ جب بغاوت، غیر ملکی ایجنڈے اور دہشت گردی کو سیاسی مصلحتوں کی چادر میں لپیٹ کر ڈھیل دی جاتی ہے، تو ملک کیسے ٹوٹتے ہیں۔ وہ اس تلخ حقیقت سے آگاہ تھے کہ ریاست کے باغیوں اور دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں ہوتے، ان کی کمر توڑی جاتی ہے۔ اس لیے وہ اس بار بلوچستان کے محاذ پر ذہنی، نفسیاتی اور عسکری طور پر مکمل تیار (Well-equipped) ہو کر آئے۔

جنرل ٹکا خان نے محدود کارروائیوں کے بجائے ‘اوور وہیلِمنگ فورس’ (Overwhelming Force) کا سنہری عسکری اصول اپنایا۔ پہاڑوں پر مورچہ زن دس سے پچاس ہزار شرپسندوں کو کچلنے کے لیے انہوں نے تقریباً اسی ہزار سے ایک لاکھ کے لگ بھگ فوج جھونک دی، تاکہ اس تخریب کاری کو پھیلنے سے پہلے ہی کچل دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: کوہستان میں ایک کلرک سے 1 ارب 30 کروڑ روپے برآمد، مگر کیسے؟ ابوبکر قسام کے کالم میں اہم انکشافات

کسی بھی گوریلا جنگ میں دہشت گردوں کی سب سے بڑی طاقت ان کی سپلائی لائن ہوتی ہے۔ ٹکا خان نے کمال حکمتِ عملی سے سبی، لہڑی اور بارکھان جیسے علاقوں کے گرد ایسا فولادی گھیراؤ کیا کہ تخریب کاروں کو ملنے والا راشن اور گولہ بارود مکمل طور پر کٹ گیا۔ یہ کوئی ظلم نہیں تھا، بلکہ محاذِ جنگ کی وہ بنیادی تکنیک تھی جس کے تحت دہشت گردوں کی آکسیجن بند کی گئی تاکہ وہ بھوکے پیاسے بلوں سے باہر نکلیں اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوں۔

بلوچستان کے دشوار گزار پہاڑ اور عمودی چوٹیاں ان شرپسندوں کی سب سے بڑی پناہ گاہ تھیں۔ اس جغرافیائی رکاوٹ کو عبور کرنے کے لیے ریاست نے بروقت سفارتکاری کی اور شاہِ ایران کی مدد سے ہیوئی کوبرا (HueyCobra) اٹیک ہیلی کاپٹرز میدان میں اتارے۔ ایران خود اس بغاوت سے خائف تھا کیونکہ اسے بجا طور پر معلوم تھا کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ان جدید ہیلی کاپٹرز نے غاروں میں چھپے تخریب کاروں کو وہیں نشانہ بنایا جہاں وہ خود کو ناقابلِ تسخیر سمجھتے تھے۔ فوج نے مسلسل پیش قدمی کرتے ہوئے ماوند جیسے دور افتادہ علاقوں میں فارورڈ آپریٹنگ بیسز (FOBs) بنا کر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا تصور ہی زمین بوس کر دیا۔

معلوماتی محاذ (Information Warfare) پر بھی ٹکا خان نے کمال دور اندیشی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ایک مکمل ‘انفارمیشن بلیک آؤٹ’ کے ذریعے تخریب کاروں اور ان کے غیر ملکی آقاؤں کا یہ ایجنڈا ناکام بنا دیا کہ وہ جھوٹا پروپیگنڈا کر کے ملک میں ہمدردیاں سمیٹیں۔ ریاست نے بیانیے پر مکمل کنٹرول رکھ کر ملک کو فکری کنفیوژن اور بین الاقوامی بلیک میلنگ سے محفوظ رکھا۔

اور جہاں تک اس بغاوت کے سیاسی ماسٹر مائنڈز کا تعلق ہے، تو ریاست نے ان پر تب ہاتھ ڈالا جب ثبوت خود بولنے لگے۔ جب اسلام آباد میں عراقی سفارت خانے سے جدید غیر ملکی اسلحے کی بھاری کھیپ پکڑی گئی، تو یہ اس بات کا ناقابلِ تردید اور کھلا ثبوت تھا کہ یہ نام نہاد ‘قوم پرست’ دراصل غیر ملکی طاقتوں کی پراکسی تھے۔ ریاست نے فوری اور فیصلہ کن ایکشن لیتے ہوئے سردار عطاء اللہ مینگل، غوث بخش بزنجو اور خیر بخش مری جیسے رہنماؤں کو غداری کے مقدمات میں حیدرآباد ٹربیونل کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا، جس سے اس دہشت گردی کے نیٹ ورک کا دماغ پوری طرح مفلوج ہو کر رہ گیا۔

ریاستِ پاکستان نے 1970 کی دہائی میں جس آہنی عزم کے ساتھ اس بغاوت کو کچلا، اس نے ثابت کیا کہ جب ریاست اپنی بقا کے لیے کھڑی ہوتی ہے، تو کوئی بھی دہشت گرد تنظیم اس کے سامنے نہیں ٹک سکتی۔ جو لوگ آج انسانی حقوق کی آڑ میں اس آپریشن پر تنقید کرتے ہیں، وہ دراصل بھول جاتے ہیں کہ اگر اس وقت جنرل ٹکا خان ان تخریب کاروں کو بے رحمی سے نہ کچلتے، تو دشمن ہماری سالمیت کے پرخچے اڑا دیتا۔
ریاست کی رٹ اور دہشت گردی کے خاتمے پر کوئی مصلحت نہیں چلتی، کیونکہ:

جو سر اٹھائے ریاست کے اقتدار کے پیش
وہ سر قلم نہ ہو تو پھر بغاوتیں ہوں گی!

Related Articles