سنہرے خواب لیکر یورپ جانیوالے تارکین کے خواب سمندر میں بہہ گئے ،کشتی حادثہ میں 375افراد جاں بحق

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے بین الاقوامی تنظیم برائے تارکینِ وطن (آئی او ایم) نے تصدیق کی ہے کہ لیبیا کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی ایک کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں کم از کم 53 افراد ہلاک یا لاپتا ہو گئے ہیں۔ آئی او ایم کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ چھ فروری کو لیبیا کے ساحلی علاقے زراوہ کے قریب پیش آیا، جہاں غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کرنے والے افریقی تارکینِ وطن سمندر کی نذر ہو گئے۔

آئی او ایم کے ایک ترجمان نے اپنے بیان میں بتایا کہ حادثے کے فوری بعد سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، تاہم اس دوران صرف دو نائیجرین خواتین کو زندہ ریسکیو کیا جا سکا۔ ترجمان کے مطابق دیگر مسافروں کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حادثے میں بچ جانے والی خواتین نے دردناک حقائق بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایک خاتون نے اپنے شوہر کو اس حادثے میں کھو دیا ہے، جبکہ دوسری خاتون کا کہنا ہے کہ ان کے دو بچے بھی کشتی ڈوبنے کے بعد لاپتا ہو گئے ہیں۔ ان خواتین کے مطابق یہ کشتی پانچ فروری کو لیبیا کے شہر زاویہ سے روانہ ہوئی تھی اور اس میں افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد سوار تھے، جو بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ جانا چاہتے تھے۔

آئی او ایم کے مطابق لیبیا انسانی اسمگلنگ اور غیر محفوظ سمندری راستوں کے باعث تارکینِ وطن کے لیے ایک خطرناک گزرگاہ بن چکا ہے۔ تنظیم کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف رواں سال جنوری کے مہینے میں کم از کم 375 تارکینِ وطن کے ہلاک یا لاپتا ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جو اس جاری انسانی بحران کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔

بین الاقوامی تنظیم برائے تارکینِ وطن نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی اور خطرناک نقل مکانی کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرے، انسانی اسمگلروں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور تارکینِ وطن کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے محفوظ اور قانونی راستے فراہم کیے جائیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *