اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے لاہور میں میڈیا نمائندگان سے ملاقات میں کہا ہے کہ پاکستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خاتمے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز، فوج، پولیس یا ایف سی کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد سے مشروط ہے اور پاکستان کے اندر ہونے والی تمام سپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ ترلائی امام بارگاہ پر حملہ آور کو دہشت گردانہ حملے کی تربیت افغانستان میں دی گئی تھی۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ بیرونی اور اندرونی سازشی عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں ناگزیر ہیں اور قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر تقسیم کے بجائے متحد رہ کر تمام فتنوں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ فتنہ الہندوستان خصوصاً بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے، جبکہ تین سال قبل ہونے والی سمگلنگ کے پیسوں کو دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا تھا، لیکن اب اس کی روک تھام کی جا چکی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے مزید کہا کہ گڈ گورننس ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو دہشت گردی کو جڑ سے ختم کر سکتی ہے اور احساس محرومی کے نعرے کی آڑ میں دہشت گردی کرنے والے اب بلوچستان کی عوام کے لیے واضح ہو چکے ہیں۔ پختونخواہ میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے بھی نیشنل ایکشن پلان کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور حالیہ میٹنگز خوش آئند ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جس طرح پاکستان نے معرکہ حق میں متحد ہو کر بھارت کو شکست دی، اسی طرح دہشت گردوں کو بھی شکست دی جائے گی۔ تعلیمی اداروں کے دوروں سے یہ بات مزید واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کی عوام، خصوصاً نوجوان نسل، پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور کوئی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا۔
سیکیورٹی ذرائع نے اپوزیشن لیڈر کے پاک فوج پر حالیہ بیان کو انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت تمام سیاسی جماعتوں کا حق ہے اور سیاست سے فوج کا کوئی تعلق نہیں۔ قانون اور عدالتیں تمام قانونی اور کورٹ کیسز کے فیصلے آئین اور قانون کے مطابق کریں گی۔