فتنتہ الہندوستان کے مبینہ دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے بلیدہ کے رہائشی نوید ہاشم کے اہلِ خانہ نے تربت میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف ایک خاندان کو اجاڑا بلکہ علاقے میں خوف و ہراس کی فضا بھی پیدا کر دی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران نوید ہاشم کی والدہ نے آبدیدہ ہو کر بتایا کہ ان کے بیٹے کو اغوا کے بعد 26 دن تک لاپتہ رکھا گیا۔ ان کے مطابق اس دوران اہلِ خانہ شدید کرب میں مبتلا رہے اور مسلسل اپنے پیارے کی تلاش میں سرگرداں رہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ نوید ہاشم کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں قتل کر کے لاش پیرکین کے علاقے میں پھینک دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ “کوئی بلوچ اپنے بھائیوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتا، ہم ماؤں کے دل مت توڑیں۔
نوید ہاشم کی بہن نے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے تین معصوم بچے یتیم ہو گئے ہیں اور خاندان ناقابلِ بیان صدمے سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بے گناہ افراد کو اس طرح قتل کیا جائے تو یہ کسی بھی قوم کی خدمت نہیں بلکہ اس کے خلاف عمل ہے۔
اہلِ خانہ نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور علاقے میں امن و امان کو یقینی بنایا جائے۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ وہ انصاف کے حصول تک اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔