محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سندھ نے صوبائی موٹر وہیکل (ترمیمی) ایکٹ 2024 نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت پورے صوبے میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کو مالکان کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) سے منسلک کر دیا گیا ہے۔
نئے نظام کے تحت رجسٹریشن مارک اب گاڑی کے بجائے مالک کی شناخت سے وابستہ ہوگا اور گاڑی فروخت ہونے کی صورت میں بھی مالک کے پاس برقرار رہے گا۔
محکمہ حکام کے مطابق اب گاڑی کی رجسٹریشن کے وقت الاٹ ہونے والا پرسنلائزڈ رجسٹریشن مارک براہ راست مالک کے سی این آئی سی سے منسلک کیا جائے گا۔ اگر کوئی شہری اپنی گاڑی فروخت کرتا ہے تو وہ اپنی نمبر پلیٹ اپنے پاس محفوظ رکھ سکے گا اور نئی گاڑی خریدنے پر اسی رجسٹریشن مارک کو منتقل کرا سکے گا۔
خریدار اور فروخت کنندہ کی باہمی رضامندی سے نمبر پلیٹ برقرار رکھنے یا تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا جا سکے گا، جبکہ مالک کو غیر فعال رجسٹریشن مارک ایک سال تک اپنے پاس رکھنے کی اجازت بھی ہوگی۔
ترمیم کے تحت کمرشل اور نجی گاڑیوں کی سابقہ درجہ بندی ختم کر دی گئی ہے اور اس کی جگہ دو نئی کیٹیگریز متعارف کرائی گئی ہیں جن میں موٹر سائیکلیں و رکشے اور تمام چار پہیوں والی گاڑیاں شامل ہیں۔ گاڑی کا چیسیز نمبر بطور وہیکل آئیڈنٹیفیکیشن نمبر (وی آئی این) استعمال کیا جائے گا اور اس سے قبل جاری شدہ نمبر پلیٹس بھی موجودہ مالکان کے نام پر پرسنلائزڈ رجسٹریشن مارک تصور ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں:چینی گاڑی ہیول کی حیران کن پیشکش، صارفین کے لیے کیا نیا آنے والا ہے؟
محکمہ ایکسائز کے مطابق نمبر پلیٹ کی منتقلی پر کوئی اضافی فیس عائد نہیں کی گئی تاہم ملکیت کی منتقلی کی مقررہ فیس بدستور لاگو رہے گی، جبکہ ریکارڈ میں سی این آئی سی کا ڈیٹا ریئل ٹائم میں اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے رجسٹریشن کا نظام زیادہ شفاف اور منظم ہوگا اور گاڑیوں کی نگرانی کے عمل کو مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔