پشاور میں بڑا کریک ڈاؤن، درجنوں افغان باشندے گرفتار، سیکڑوں مشتبہ افراد حراست میں

پشاور میں بڑا کریک ڈاؤن، درجنوں افغان باشندے گرفتار، سیکڑوں مشتبہ افراد حراست میں

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارلحکومت پشاور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جرائم پیشہ عناصر اور غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 35 افغان باشندوں کو گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا، جبکہ 233 مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شہر کے مختلف حساس اور گنجان آباد علاقوں میں 41 سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز کیے گئے۔ ان کارروائیوں میں داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ رہائشی علاقوں میں گھر گھر تلاشی بھی لی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور جرائم کی روک تھام کے لیے کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:کور ہیڈکوارٹر پشاور میں اجلاس ،وفاق اور کے پی میں مؤثر رابطوں کے ذریعے د ہشتگردی سے نمٹنے کیلئے یکساں مؤقف یقینی بنانے کا فیصلہ

کارروائیوں کے دوران بغیر قانونی دستاویزات کے مقیم 35 افغان باشندوں کو حراست میں لیا گیا۔ امیگریشن قوانین کے تحت ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں باضابطہ طور پر ملک بدر کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

پولیس نے مجموعی طور پر 233 مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا، جن میں سے متعدد کا تعلق جرائم پیشہ سرگرمیوں سے بتایا جا رہا ہے۔ گرفتار افراد کے خلاف مختلف تھانوں میں 148 مقدمات درج کیے گئے ہیں اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق چند افراد سے تفتیش کے دوران اہم معلومات بھی حاصل ہوئی ہیں جن کی بنیاد پر مزید کارروائی متوقع ہے۔

چھاپوں کے دوران غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا، تاہم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر برآمد شدہ اسلحے کی نوعیت اور مقدار کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

پولیس کے مطابق یہ کریک ڈاؤن شہر میں بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانے اور امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کی مربوط حکمت عملی کا حصہ ہے۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع قریبی تھانے یا ہیلپ لائن پر دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

مزید پڑھیں:شٹر ڈاؤن ناکام، پی ٹی آئی کی ڈنڈا بردار فورس سڑکوں پر، زبردستی دکانیں بند کروانے کی کوششیں، ہنگو، پشاور، چارسدہ میں جھڑپیں

حکام کا مزید کہنا ہے کہ پشاور میں قیام پذیر غیر ملکی شہری اپنے قانونی دستاویزات ہمراہ رکھیں اور متعلقہ اداروں میں اپنی رجسٹریشن یقینی بنائیں، بصورت دیگر قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

شہر میں جاری اس بھرپور کریک ڈاؤن نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ قانون شکنی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور امن و امان کے قیام کے لیے کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔

Related Articles