پاکستان کے سابق آل راؤنڈر محمد حفیظ نےبھارت کے خلاف میچ میں قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کے فیلڈنگ کے دوران لیے گئے فیصلوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق محمد حفیظ نے میچ کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سلمان علی آغا نے 10 رنز دے کر 2 متاثر کن اوورز مکمل کیے اور ابھیشیک شرما کی 1 وکٹ بھی حاصل کی۔
انہوں نے کہا کہ سلمان علی آغا کو تیسرے اور چوتھے اوورز تک بولنگ کرنی چاہیے تھی کیونکہ اس طرح بھارتی ٹیم کو بڑا اسکور کرنے سے روکا جا سکتا تھا۔
محمد حفیظ نے پہلے سے بنے ہوئے اچھے مومینٹم کے باوجود چھٹا اوور صائم ایوب کو دینے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھاتے کہا کہ طاقتور حریفوں کے خلاف فیصلہ کن مرحلے ’پاور پلے‘ کے دوران ایک اچھے بولر کو متعارف کروایا جانا چاہیے تھا۔
محمد حفیظ نے اسپنر عثمان طارق کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کے اسپیل کو متاثر کن قرار دیا۔
اُنہوں نے عثمان طارق کو اوور دینے کے وقت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت عثمان طارق کو بولنگ کے لیے بھیجا گیا تب تک بھارت کے وکٹ کیپر بیٹر ایشان کیشن پہلے ہی کافی نقصان پہنچا چکے تھے۔
واضح رہے کہ اتوار کو کھیلے گئے اہم مقابلے میں بھارت نے پاکستان کو 61 رنز سے شکست دے کر اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان آئی سی سی مینز ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ کی تاریخ کی پہلی ٹیم ہے، جس نے 20 اوورز کروانے کےلیے 6 اسپنرز کا استعمال کیا ، پاکستان نے بھارت کے خلاف ایونٹ کے 27 ویں میچ میں صائم ایوب، سلمان علی آغا، شاداب خان، محمد نواز، ابرار احمد اور عثمان طارق سے بولنگ کرائی۔
پاکستان کے صائم ایوب نے 4 اوورز میں 25 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ سلمان علی آغا، شاداب خان، محمد نواز، عثمان طارق اور ابرار احمد نے 14 اوورز میں117 رنز دیےاور ان بولرز نے 2 وکٹ حاصل کیں۔