ٹی20 ورلڈ کپ میں شائقین کرکٹ کی نظریں ایک بار پھر روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے ممکنہ مقابلے پر جمی ہوئی ہیں ۔
آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارتی ٹیم نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے سپر 8 مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے، گروپ اے میں امریکا اور نمیبیا کے خلاف آسان فتوحات کے بعد بھارت نے کولمبو میں اپنے روایتی حریف پاکستان کو بھی 61 رنز سے شکست دے کر اگلے مرحلے میں رسائی یقینی بنائی۔
بھارت نے ٹورنامنٹ کا آغاز انتہائی مضبوط انداز میں کیا اور اپنے اعزاز کے دفاع کی جانب پراعتماد قدم بڑھا دیے ، دوسری جانب پاکستان کو اب بھی سپر 8 مرحلے تک پہنچنے کیلئے سخت جدوجہد کرنا ہوگی ، تین میچوں میں دو کامیابیوں اور ایک شکست کے ساتھ قومی ٹیم گروپ میں تیسرے نمبر پر موجود ہے جبکہ پوائنٹس کے لحاظ سے امریکا کے برابر ہے، جو دوسرے نمبر پر ہے۔
پاکستان کو 18 فروری کو آر پریماداسا اسٹیڈیم میں نمیبیا کے خلاف لازمی کامیابی درکار ہے تاکہ اگلے مرحلے میں جگہ یقینی بنائی جا سکے۔
ٹورنامنٹ کے فارمیٹ کے مطابق چاروں گروپس سے دو، دو ٹیمیں سپر 8 کے لیے کوالیفائی کرتی ہیں، اس مرحلے میں آٹھ ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا جاتا ہے جہاں راؤنڈ رابن کی بنیاد پر میچز کھیلے جاتے ہیں، ہر گروپ کی سرفہرست دو ٹیمیں سیمی فائنل میں جگہ بناتی ہیں۔
ٹورنامنٹ سے قبل آئی سی سی درجہ بندی کے مطابق ٹاپ آٹھ ٹیموں کو سپر 8 کے لیے سیڈ کیا گیا تھا، فارمیٹ کے تحت بھارت اور پاکستان کو الگ الگ گروپس میں رکھا گیا ہے تاکہ ابتدائی مرحلے میں دوبارہ مقابلہ نہ ہو ، اس طرح دونوں ٹیموں کا ممکنہ ٹاکرا اب صرف ناک آؤٹ مرحلے میں ہی ممکن ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دونوں ٹیمیں سپر ایٹ سے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر لیتی ہیں اور ایک اپنی گروپ میں پہلی جبکہ دوسری رنر اپ پوزیشن حاصل کرتی ہے تو سیمی فائنل میں سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، اگر دونوں اپنی اپنی گروپس میں ٹاپ پوزیشن حاصل کر کے سیمی فائنل جیت جائیں تو 8 مارچ کو ہونے والا فائنل ایک اور تاریخی اور سنسنی خیز پاک بھارت مقابلہ ثابت ہو سکتا ہے، جو عالمی سطح پر ایک بار پھر شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواسکتا ہے ۔