بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق انکی ہمشیرہ علیمہ خان نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جیل کے بجائے مخصوص اسپتال (شفاء انٹر نیشنل) میں علاج پر اصرار کر رہی ہیں۔
صحافی کے سوال پر کہ بیرسٹر گوہر کو دی گئی بریفنگ سے متعلق کیا ان سے کوئی بات ہوئی، علیمہ خان نے ابتدا میں نفی میں سر ہلایا۔ بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ بیرسٹر گوہر علی خان کا فون آیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ دو نام دے دیں تاکہ ڈاکٹرز کو جیل بھیجا جا سکے۔
علیمہ خان کے مطابق انہوں نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جیل بھیج کر کیا فرق پڑے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ “ہمیں ان پر اعتبار نہیں کرنا، ہم نے شفاء انٹرنیشنل بھجوانے کا کہا ہے۔”
انہوں نے واضح طور پر کہا، “ہاں ہم رکاوٹ تھے اور رہیں گے، صرف شفاء انٹرنیشنل جانا ہے۔”
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی سے مراد عمران خان ہیں، جن کی صحت اور علاج کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری جانب حکام کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
مزید جانیئے: ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات، سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری جاری

