چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کا معاملہ انتہائی سنجیدہ نوعیت کا ہے اور اس پر کوئی سیاست نہیں کی جا رہی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پارٹی کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ فیملی ممبران یا ذاتی معالج کو بانی تک رسائی دی جائے۔ ان کے مطابق مؤقف یہ بھی تھا کہ عمران خان کو مکمل طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا جائے، اسی وجہ سے وہ طبی جانچ کے عمل میں شریک نہیں ہوئے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ معائنہ جیل کے بجائے اسپتال میں ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملاقاتوں پر پابندی لگا کر معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔ دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ کے مطابق آنکھ میں مسئلہ موجود ہے، جبکہ سرکاری رپورٹ میں بہتری کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ذاتی معالج عاصم یوسف کو اندر جانے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی، اور کہا کہ وہی اصل صورت حال سے آگاہ کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ کو بانی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ ان کی تینوں بہنوں کو بھی اڈیالہ جیل جانے سے روک دیا گیا۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کروا دی گئی، جو تقریباً 30 منٹ تک جاری رہی، جبکہ بشریٰ بی بی کی اپنی فیملی سے بھی ملاقات ہوئی۔
مزید پڑھیں: محسن نقوی کی بڑی سفارتی کامیابی، سری لنکن صدر کا پاکستان کے لیے بڑا اعلان

