وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے سے اہم ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، ویزہ پالیسی، انسداد دہشت گردی اور سیکیورٹی تعاون سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چودھری سالک حسین بھی شریک تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے سری لنکن صدر کو پاکستانی شہریوں کو ویزہ کے حصول میں درپیش مشکلات سے آگاہ کیا اور نشاندہی کی کہ بعض انتظامی فہرستوں میں شامل ہونے کی وجہ سے پاکستانیوں کو غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس پر صدر ڈسانائیکے نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ پاکستان کو تمام مخصوص لسٹوں سے نکالا جائے اور ویزہ کے عمل کو سہل بنایا جائے۔
ملاقات کے دوران سری لنکن صدر نے اعلان کیا کہ وہ اپنی وزیراعظم کو بہت جلد پاکستان کے دورے پر بھیج رہے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، تجارتی اور دفاعی روابط کو مزید وسعت دی جا سکے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ تاریخی اور دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق گفتگو میں انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات اور سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ تربیت کے معاملات پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے اور دونوں ممالک کو انٹیلی جنس شیئرنگ اور تربیتی پروگرامز کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
محسن نقوی نے شہباز شریف کی جانب سے سری لنکن صدر کو پاکستان کے دورے کی باقاعدہ دعوت بھی دی اور امید ظاہر کی کہ اعلیٰ سطح کے تبادلوں سے تعلقات میں نئی جہت پیدا ہوگی۔ انہوں نے پاک سری لنکا تعلقات کے فروغ کے لیے صدر ڈسانائیکے کے کردار کو سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک باہمی احترام اور تعاون کی بنیاد پر آگے بڑھ رہے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کولمبو میں ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے کیے گئے شاندار انتظامات اور پاکستانی وفد کی گرمجوش میزبانی پر سری لنکن قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ سری لنکن صدر نے اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کولمبو میں بھارت کے ساتھ ٹی 20 میچ کھیلنے کے فیصلے کو سری لنکا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اور یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان خیرسگالی کے جذبے کا مظہر ہے۔
ملاقات کو سفارتی حلقوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ویزہ پالیسی میں آسانی متوقع ہے بلکہ دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کے نئے دروازے بھی کھلنے کی امید ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سری لنکا خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔