رمضان المبارک کی آمد سے قبل حکومت نے مستحق خاندانوں کے لیے بڑا ریلیف پیکج تیار کر لیا، جس کے تحت مالی معاونت میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ملک بھر کے ایک کروڑ سے زائد خاندان اس اضافے سے مستفید ہوں گے اور نئی ادائیگیاں رمضان المبارک کے دوران کی جائیں گی۔
Benazir Income Support Programme (بی آئی ایس پی) کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے میڈیا کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ بینظیر کفالت پروگرام کے تحت سہ ماہی وظیفے میں ایک ہزار روپے اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد مستحق خواتین کو دی جانے والی رقم 13 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 14 ہزار 500 روپے کر دی گئی ہے، جس کی ادائیگی رمضان المبارک میں کی جائے گی تاکہ غریب خاندانوں کو مہنگائی کے دباؤ میں ریلیف مل سکے۔
چیئرپرسن کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ رمضان جیسے بابرکت مہینے میں کم آمدنی والے طبقات کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کفالت پروگرام کے علاوہ دیگر فلاحی منصوبوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ معاشرے کے کمزور طبقات کو جامع سہارا فراہم کیا جا سکے۔
بینظیر ایجوکیشن وظائف پروگرام کے تحت بھی فی بچہ وظیفے میں 500 روپے اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مستحق خاندانوں کے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا اور اسکول چھوڑنے کی شرح کو کم کرنا ہے۔
اسی طرح بینظیر نشوونما پروگرام میں بھی 500 روپے اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ پروگرام حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو غذائی اشیاء اور مالی معاونت فراہم کرتا ہے تاکہ ماں اور بچے کی صحت بہتر بنائی جا سکے اور غذائی قلت پر قابو پایا جا سکے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی شفافیت اور مستحقین تک براہ راست رسائی کو یقینی بنانے کے لیے جدید نظام کے تحت ادائیگیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی ترجیح ہے کہ مالی امداد بروقت اور بغیر کسی کٹوتی کے مستحقین تک پہنچے۔