اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے میں بتایا کہ سیکرٹری جنرل نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اس سفارتی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور نیک نیتی کے ساتھ ایک دیرپا اور جامع معاہدے کی جانب پیش رفت کریں ، تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور دوبارہ تنازع کی صورتحال سے بچا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق انتونیو گوتریس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بین الاقوامی تنازعات کا پرامن حل ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے ، جو اقوام متحدہ کے چارٹر سمیت بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے بعد، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے آج پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں اہم ترین مذاکرات ہورہے ہیں۔
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے یہ مذاکرات ایک نازک جنگ بندی پر پیش رفت کو آگے بڑھانے اور ایک وسیع تر معاہدے کی راہیں تلاش کرنے کیلئے منعقد کیے جا رہے ہیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ایرانی وفد اسلام آباد میں اہم سفارتی مذاکرات میں شرکت کرے گا، اسحاق ڈار نے تعمیری مذاکرات کی امید کا اظہار کیا، پاکستان نےتنازع کےپرامن اور دیرپاحل کےلیےکردارجاری رکھنےکےعزم کااعادہ کیا اور فریقین کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنےکی پیشکش کی۔
یہ سفارتی معرکہ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کا نتیجہ ہے جس نے عالمی معیشت اور توانائی کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں 8 اپریل کو جنگ بندی ممکن ہوئی، جسے وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور عالمِ اسلام کے لیے ’فخر کا لمحہ‘ قرار دیا ہے۔