خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں دہشت گردی کے حالیہ واقعے کے بعد پاک فوج کے اعلیٰ افسر نے خوف کے بت توڑتے ہوئے ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔
16 فروری کو باجوڑ کی ملنگی پوسٹ پر ہونے والے بزدلانہ خودکش حملے کے محض دو روز بعد آئی جی فرنٹیر کور (نارتھ) میجر جنرل عمران سرتاج راؤ کو باجوڑ کے علاقے ماموند میں کسی پروٹوکول کے بغیر عام عوام کے درمیان دیکھا گیا ہے۔
سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، میجر جنرل عمران سرتاج راؤ نے علاقے میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے اور عوام کا حوصلہ بڑھانے کے لیے روایتی فوجی کانوائے کے بجائے موٹر سائیکل کا انتخاب کیا۔ وہ ماموند کی گلیوں اور سڑکوں پر ایک عام شہری کی طرح موٹر سائیکل چلاتے ہوئے لوگوں میں گھل مل گئے، جس نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب علاقے میں خودکش حملے کے بعد تناؤ پایا جا رہا تھا، آئی جی ایف سی کا اس طرح عوام کے درمیان بغیر کسی حصار کے آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے حوصلے بلند ہیں اور وہ دہشت گردی سے مرعوب ہونے والے نہیں۔ میجر جنرل عمران سرتاج راؤ نے اس دوران مقامی لوگوں سے گفتگو بھی کی اور انہیں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اعلیٰ عسکری قیادت کا یہ اقدام نہ صرف دہشت گردوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ریاست ان کے سامنے جھکنے والی نہیں، بلکہ اس سے مقامی آبادی اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی مزید مضبوط ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر میجر جنرل عمران سرتاج راؤ کی موٹر سائیکل پر گھومنے کی ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جہاں صارفین ان کی اس جرات مندی اور سادہ مزاجی کو بھرپور سراہ رہے ہیں۔