وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے نیٹ میٹرنگ سے متعلق جمع شدہ درخواستوں پر اہم فیصلہ کرتے ہوئے 8 فروری تک موصول ہونے والی تمام درخواستوں کو پرانے قواعد و ضوابط کے تحت پراسیس کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے ہزاروں صارفین کے لیے پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال ختم ہوگئی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے پاس 8 فروری تک مجموعی طور پر 5 ہزار 165 درخواستیں جمع ہیں جن کے تحت تقریباً 250 میگاواٹ صلاحیت قومی گرڈ میں شامل ہونے کی توقع ہے۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ ان تمام درخواستوں کو سابقہ ریگولیشنز کے مطابق نمٹایا جائے گا تاکہ درخواست گزاروں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔
حکم نامے کے تحت تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں بشمول کے الیکٹرک کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ نیٹ میٹرنگ کی سہولت فراہم کرنے میں کسی قسم کی تاخیر نہ کریں اور فوری عمل درآمد یقینی بنائیں۔ وزیر توانائی نے کہا کہ درخواستوں کے پراسیس میں مکمل شفافیت برقرار رکھی جائے اور کسی بھی قسم کی بدانتظامی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
سردار اویس لغاری کا کہنا تھا کہ حکومت قابل تجدید توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور نیٹ میٹرنگ صارفین کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ قومی گرڈ کو اضافی بجلی فراہم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو بروقت آگاہی فراہم کی جائے اور پراسیسنگ کے تمام مراحل واضح انداز میں مکمل کیے جائیں۔
وزیر توانائی نے بجلی صارفین سے اپیل کی کہ اگر کسی کو نیٹ میٹرنگ درخواست کے حوالے سے شکایت ہو تو وہ ہیلپ لائن 118 پر اپنی شکایت درج کرائیں تاکہ فوری ازالہ کیا جا سکے۔
توانائی ماہرین کے مطابق 250 میگاواٹ اضافی بجلی کی شمولیت سے نہ صرف گرڈ پر دباؤ کم ہوگا بلکہ ماحول دوست توانائی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ واضح پالیسی اور بروقت فیصلوں سے سرمایہ کاروں اور صارفین کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر کے اس فیصلے کو صارفین اور سولر سسٹم نصب کرانے والے حلقوں کی جانب سے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے موجودہ درخواستوں کے بارے میں پائے جانے والے خدشات اور افواہوں کا خاتمہ ہوگیا ہے۔