وفاقی حکومت نے ماہِ رمضان کے پیش نظرعوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے 38 ارب روپے مالیت کے خصوصی پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔ ای سی سی نے رمضان ریلیف پیکیج 2026 کی باقاعدہ منظوری دے دی، جس کا مقصد مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنے والے مستحق خاندانوں کو فوری مالی سہارا فراہم کرنا ہے۔
اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکا سے آن لائن شرکت کرتے ہوئے کی۔ اجلاس میں ایک نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، جس میں وزیراعظم کے اعلان کردہ رمضان ریلیف پیکیج کو حتمی منظوری دینا شامل تھا۔ حکام کے مطابق وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ نے اس حوالے سے سمری پیش کی، جسے غور کے بعد منظور کر لیا گیا۔
منظور شدہ پیکیج کے تحت ملک بھر کے مستحق خاندانوں کو فی خاندان 13 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے، حکومت کا کہنا ہے کہ رقوم کی منتقلی رمضان المبارک کے پہلے ہفتے میں شروع کر دی جائے گی تاکہ مستحق افراد بروقت اس امداد سے فائدہ اٹھا سکیں، اس اقدام کا مقصد بنیادی اشیائے خورونوش کی خریداری میں مدد فراہم کرنا اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینا ہے۔
حکام کے مطابق امدادی رقم کی تقسیم روایتی طریقہ کار کے بجائے ڈیجیٹل نظام کے تحت کی جائے گی۔ رقوم مستحقین کے ڈیجیٹل والٹس میں منتقل کی جائیں گی، جس سے شفافیت کو یقینی بنانے اور بدعنوانی کے امکانات کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس جدید نظام کے ذریعے مستحق افراد کو قطاروں میں کھڑے ہونے یا طویل کاغذی کارروائی سے بھی نجات ملے گی۔
سرکاری اندازوں کے مطابق اس پیکیج سے ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد خاندان مستفید ہوں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ رمضان ریلیف پیکیج نہ صرف فوری مالی معاونت فراہم کرے گا بلکہ معاشی مشکلات کے شکار طبقے کے لیے سہارا بھی ثابت ہوگا۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر اس پیکیج پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا گیا تو یہ اقدام مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔