پاکستان سے اربوں ڈالر کی بیرون ملک منتقلی۔۔۔پردے کے پیچھے کیا ہورہا ہے؟

پاکستان سے اربوں ڈالر کی بیرون ملک منتقلی۔۔۔پردے کے پیچھے کیا ہورہا ہے؟

پاکستان میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے منافع کی بیرونِ ملک منتقلی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے مطابق رواں مالی سال 2025-26 کے ابتدائی سات ماہ کے دوران 1.68 ارب ڈالر اپنے مرکزی دفاتر کو منتقل کیے گئے۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ ہے، جب 1.33 ارب ڈالر بیرونِ ملک بھیجے گئے تھے۔

سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف جنوری 2026 میں 118.9 ملین ڈالر منافع اور منافعانہ حصہ بیرونِ ملک منتقل کیا گیا، جو جنوری 2025 کے مقابلے میں 15.5 فیصد اور دسمبر 2025 کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ سال جنوری میں یہ رقم 102.39 ملین ڈالر جبکہ دسمبر 2025 میں 88.8 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔

جنوری 2026 کے دوران توانائی کے شعبے سے وابستہ غیر ملکی کمپنیوں نے سب سے زیادہ 41.1 ملین ڈالر منتقل کیے، جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کی کمپنیوں نے 24.5 ملین ڈالر بیرونِ ملک بھیجے۔ اسی طرح خوراک کے شعبے سے 18.7 ملین ڈالر اور مواصلاتی شعبے سے 14.6 ملین ڈالر منتقل کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں چینی برانڈ کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس گاڑی لانچ، گاڑیوں کے شوقین افراد کے لیے بڑی خبر

مالی سال کے پہلے سات ماہ میں توانائی کے شعبے نے مجموعی طور پر 400.2 ملین ڈالر منتقل کیے، جب کہ مالیاتی کاروبار سے وابستہ کمپنیوں نے 371.3 ملین ڈالر بیرونِ ملک بھیجے۔ خوراک کے شعبے سے 142.4 ملین ڈالر اور مواصلاتی شعبے سے 132.3 ملین ڈالر کی منتقلی ریکارڈ کی گئی۔ دیگر شعبوں میں مشروبات، تمباکو و سگریٹ، کیمیکل، پیٹرولیم ریفائنریز، تیل و گیس کی تلاش، ادویات، برقی آلات، گاڑیوں کی تیاری، ٹرانسپورٹ اور گودام سہولیات شامل ہیں، جہاں سات ماہ کے دوران منافع کی منتقلی 14 ملین سے 91 ملین ڈالر کے درمیان رہی۔

ماہرین کے مطابق منافع کی منتقلی میں یہ اضافہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور کمپنیوں کی جانب سے منافع کے اعلانات کے بعد سامنے آیا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بہتر کارکردگی نے بھی اس رجحان کو تقویت دی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *