بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ان کے ذاتی معالجین کی ملاقات کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں آنکھوں کے معائنے اور علاج سے متعلق تازہ تفصیلات منظرعام پر آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق شوکت خانم سے وابستہ سربراہ طبی افسر ڈاکٹر عاصم یوسف نے شبکیہ چشم کے تین ماہرین کے نام تجویز کیے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان ناموں میں الشفاءہسپتال کے ڈاکٹر عامر اعوان، میجر جنرل (ر) مظہر اسحاق اور Armed Forces Institute of Ophthalmology کے سربراہ میجر جنرل وقار مظہر شامل تھے، تاہم مذکورہ ماہرین کو معائنے کی اجازت نہ مل سکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں الشفاء بین الاقوامی اسپتال سے ڈاکٹر ندیم قریشی کو معائنے کے لیے بھیجا گیا، جن کے ہمراہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ڈاکٹر عارف بھی موجود تھے۔ بتایا گیا ہے کہ شوکت خانم کے ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر خرم مرزا کو اڈیالہ جیل جانے کی اجازت نہ ملنے کے باعث متبادل انتظام کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو آنکھ میں پہلا ٹیکہ 25 جنوری کو لگایا گیا تھا جبکہ دوسرا ٹیکہ 25 فروری کو لگایا جانا ہے۔ اس حوالے سے تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ آئندہ ٹیکہ جیل میں دیا جائے گا یا انہیں اسپتال منتقل کیا جائے گا۔
ادھر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے تصدیق کی کہ ڈاکٹر ندیم قریشی کا نام باہمی مشاورت سے تجویز کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ معالجین کے مطابق چند ہفتے قبل بانی پی ٹی آئی دیوار پر لگی گھڑی دیکھنے سے قاصر تھے، تاہم حالیہ ملاقات میں انہوں نے گھڑی اور اس کی سوئیاں واضح طور پر نظر آنے کی بات کی، جسے ڈاکٹروں نے حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا ہے۔