سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ اگر ان کے غصے سے کسی کا دل دکھا ہے تو انہیں کوئی پرواہ نہیں لیکن فی الوقت کےلئے وہ معذرت خواہ ہیں، تاہم ان کا غصہ جائز ہے کیونکہ ابھی تک ایک چھوٹی سی جائز ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کرائی جا سکی کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو ان کا ذاتی معالج فراہم کیا جائے۔
اپنے ویڈیو بیان میں علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ عمران خان کی آنکھ اور صحت کے حوالے سے ان کے تحفظات بدستور برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس شخص نے عوام کو صحت کی مفت سہولتیں فراہم کیں، وہ آج اپنی صحت کے معاملے میں مشکلات کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت آئی تو یونیورسل ہیلتھ کارڈ متعارف کرایا گیا اور ہر طرح کی بیماری کو اس میں شامل کیا گیا۔ بعد ازاں جب بانی پی ٹی آئی وزیراعظم بنے تو انہوں نے پورے ملک کے عوام کو صحت کارڈ کی سہولت دی، مگر افسوس کہ آج انہیں اپنے ذاتی معالج تک سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
علی امین گنڈاپور نے دوبارہ کہا کہ اگر ان کے غصے سے کسی کو تکلیف پہنچی ہے تو وہ معذرت خواہ ہیں، لیکن ان کا غصہ جائز ہے کیونکہ ابھی تک یہ چھوٹی سی جائز ڈیمانڈ پوری نہیں ہوئی کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کا ذاتی معالج دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس معاملے پر کسی کو غصہ نہیں آ رہا تو ان کے خیال میں اس میں انسانیت نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سب کو اپنے مقصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور بھرپور انداز میں آواز اٹھانی چاہیے۔ ان کے مطابق اکثر لوگ اصل مقصد سے ہٹ کر دیگر مسائل میں الجھ جاتے ہیں جس کے باعث بنیادی ہدف حاصل نہیں ہو پاتا۔
علی امین گنڈاپور نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان تک فوری رسائی دی جائے۔