علی امین گنڈا پور بارے رانا ثنا اللہ کے اہم انکشافات،ملاقاتوں میں کیا طے ہوا، سب بتا دیا

علی امین گنڈا پور بارے رانا ثنا اللہ کے اہم انکشافات،ملاقاتوں میں کیا طے ہوا، سب بتا دیا

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ دھرنے کے دوران چند سیاسی تنازعات پیدا ہوئے، جن پر محسن نقوی اور گنڈا پور کی کوششوں سے معاملہ رفع دفع ہوا۔

تفصیلات کے مطابق مشیر وزیر اعظم برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وضاحت کی کہ گنڈا پور نے محسن نقوی کی کوششوں کا ذکر ضرور کیا مگر الفاظ کا چناؤ درست نہیں تھا۔ دھرنے کے دوران واپڈا افسر پر حملہ ہوا جس کی وجہ سے کچھ علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کی صورتحال پیدا ہوئی، جس پر وفاقی حکومت نے حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق معاملے میں گرفتاریوں کی ضرورت پیش نہیں آئی اور مذاکرات اور یقین دہانی کی بنیاد پر معاملہ ختم کر دیا گیا۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کو ہدایت دی گئی کہ رات کو ڈی چوک نہ جائیں اور اگر سنگجانی جا کر بیٹھیں تو بات کی جائے گی۔ اجلاس میں سپیکر اور پارٹی کی دیگر قیادت بھی موجود تھی اور سب متفق تھے۔

انہوں نے کہا کہ محسن نقوی نے اس معاملے میں اہم کردار ادا کیا اور اگر یہ معاملہ آگے بڑھتا تو تحریک انصاف کے رہنما ڈیالہ جیل پہنچ جاتے۔ بانی پی ٹی آئی نے ملاقات کے دوران کہا کہ وہ باہر نہیں آنا چاہتے اور پوری پارٹی کو صحیح وقت پر درست فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید جانیئے: پی ٹی آئی والے ملاقاتوں کو سیاست،گالم گلوچ کے لیے استعمال نہ کریں تو کون روکتا ہے؟رانا ثنا ء اللہ

رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ پارٹی کے سربراہ کی قیادت میں آزمائش اور تدبر کا امتحان جاری ہے اور بانی پی ٹی آئی چاہتے ہیں کہ وہ ایک دن بھی جیل میں نہ رہیں۔

دھرنے کے دوران واپڈا افسر پر حملہ ہوا، لوڈ شیڈنگ کی صورتحال پیدا ہوئی۔ وفاقی حکومت نے حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا۔ محسن نقوی اور گنڈا پور کے درمیان بات چیت کے بعد معاملہ رفع دفع کیا گیا۔ گرفتاریاں نہیں ہوئیں، معاملہ مذاکرات اور یقین دہانی پر ختم ہوا۔ پی ٹی آئی کو کہا گیا رات ڈی چوک نہ جائیں، سنگجانی جا کر بیٹھیں تو بات کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو بتایا گیا کہ پورا ملک انقلاب کے لیے تیار ہے، تاہم لوگوں کو نصیحت کی گئی کہ اسلام آباد اور ڈی چوک نہ جائیں۔ محسن نقوی نے براہ راست بانی پی ٹی آئی کو مشورہ دیا اور ابتدائی طور پر وہ مشورے پر رضامند بھی ہوئے، تاہم بعد میں موقف بدل کر بیک آؤٹ کر لیا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *