باجوڑمیں ملنگی پوسٹ پر حملے میں ملوث خوارج کے سہولت کاروں کا سماجی بائیکاٹ

باجوڑمیں ملنگی پوسٹ پر حملے میں ملوث خوارج کے سہولت کاروں کا سماجی بائیکاٹ

باجوڑ میں مقامی افراد نے ملنگی پوسٹ پے حملے میں خوارج کے سہولت کاروں کو پناہ دینے والے تین گاؤں کا سماجی بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق باجوڑ میں ملنگی پوسٹ پے حملے میں شامل خوارج کے سہولت کاروں کو باجوڑ کے علاقے ماموند کے تین گاؤں انگا ، شاکرو اور شاہی تنگی کے لوگوں نے پناہ دی ہوئی ہے ۔

ملنگی پوسٹ پرحملے میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے طاہر عرف مولا، اسماعیل عرف عمر اور الیاس عرف ملنگ باچا شامل ہیں جس پرخوارج کی سہولت کاری نا منظور کا اعلان بلند کرتے ہوئے باجوڑ میں ملنگی چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث خوارج کے سہولت کاروں کے خلاف سخت اقدامات کا آغاز کیا گیا ہے۔

حکومت خیبر پختونخوا نے خودکش حملے کے سہولت کاروں اور معاونین کے سروں کی قیمت مقرر کر دی ہے اور
فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے طاہر عرف مولا، اسماعیل عرف عمر اور الیاس عرف ملنگ باچا کے سروں کی قیمت پانچ کروڑ روپے مقرر کی ہے۔مقامی افراد نے ان تینوں گاؤں کا خوارج کی سہولت کاری کی وجہ سے سماجی بائیکاٹ کر دیا ہے اورزندہ یا مردہ خوارجین کی اطلاع دینے والے کو پانچ کروڑ انعام دیا جائے گا۔

مزید جانیئے: باجوڑ خودکش حملے میں افغان شہری کے ملوث ہونے کی تصدیق، حملہ آور کی شناخت اور پس منظر سامنے آگیا

معصوم عوام کے قاتل درندہ صفت خوارجین کو پناہ دینے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے گا۔ تمام ریاستی اداروں کا خوارجین کے تمام نیٹ ورک کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھنے کا عزم خوارج کے سہولت کاروں اور معاونت کرنے والوں کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ دہشت گرد عناصر کو عبرتناک انجام تک پہنچا کر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *