پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی پیشکش کے باوجود عدم ملاقات کو سنگین غلطی قرار دے دیا۔
رہنما پاکستان تحریک انصاف علی محمد خان نے کہا کہ اگر وہ خود وہاں موجود ہوتے تو جیل جا کر بانی سے ملاقات کرتے اور ان کی صحت کی خود تصدیق کرتے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بانی کی بہنوں کے جذبات کا احترام کیا جانا چاہیے تاکہ کسی قسم کی دل آزاری نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کم از کم ذاتی معالج سے ملاقات کی سہولت فراہم کی جائے کیونکہ یہ معاملہ سیاسی نہیں بلکہ انسانی اور صحت سے متعلق ہے۔ علی محمد خان نے سپریم کورٹ کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بانی کی صحت، بچوں سے ملاقات اور کتابوں کی فراہمی کے حوالے سے واضح ڈائریکشنز جاری کی جا چکی ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے سہیل آفریدی کی جانب سے ’رہائی فورس‘ بنانے کے اعلان کو مثبت قدم قرار دیا، تاہم تجویز دی کہ اس کا نام ’بانی رہائی رضا کار‘ رکھا جائے تاکہ کسی قسم کی تنقید کا موقع نہ ملے۔
علی محمد خان نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن انسانیت اور اخلاقیات کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے اور بانی پی ٹی آئی کے ساتھ انصاف اور احترام کے ساتھ پیش آنا ضروری ہے۔
مزید جانئے: فیصل واوڈا اور رانا ثناءاللہ کا ٹکراؤ،انتہائی سخت زبان کا استعمال ،رانا ثناءاللہ کو خبردار کر دیا

