سنی اتحاد کونسل کے سربراہ اور پی ٹی آئی کے اتحادی صاحبزادہ حامد رضا کو جیل میں گئے 111دن گزر چکے ہیں تاہم اس عرصہ میں پی ٹی آئی کی طرف سے ان کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ منقطع ہے جس پر نہ صرف صاحبزادہ حامد رضا بلکہ ان کے اہلخانہ کو بھی تشویش لاحق ہے اس حوالے سے سماجی رابطے کے صفحے پر ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے پیغام جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ جیل میں ان سے ملاقات کا دن مقرر ہے اور سوال اٹھایا گیا کہ کیا ان کے اتحادیوں میں سے کوئی رہنما ان سے ملاقات کرے گا۔
اس پیغام کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی اور مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بیانات بھی سامنے آئے ہیں
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سنی اتحاد کونسل کے رہنما صاحبزادہ حامد رضا سے متعلق سامنے آنے والے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے والد مرحوم کے ساتھ ان کی دیرینہ نیاز مندی اور طویل سیاسی رفاقت رہی ہے، تاہم موجودہ حالات میں پاکستان تحریکِ انصاف ایک منظم سیاسی جماعت کے بجائے ایک مخصوص طرزِ عمل تک محدود ہو چکی ہے جہاں اجتماعی سیاسی سوچ کمزور پڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت کے اندر مختلف گروہ موجود ہیں اور بانی چیئرمین عمران خان کے علاوہ دیگر رہنماؤں کو مسلسل تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بعض افراد اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے سرگرم دکھائی دیتے ہیں اور جماعت کے اندر مفادات کی کشمکش بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق مجموعی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ جماعت کی توجہ ایک ہی شخصیت کے گرد مرکوز ہے۔
دوسری جانب وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ کئی ماہ سے جیل میں موجود اتحادی رہنماؤں کے حق میں مؤثر آواز بلند نہیں کی گئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ جماعت میں اجتماعی قیادت کا فقدان ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صاحبزادہ حامد رضا کو جیل میں 111 دن سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن کوئی اہم رہنما ان سے ملاقات کے لیے نہیں گیا۔ ان کے بقول جماعت اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کو نظر انداز کر دیتی ہے۔