ڈھاکہ نے بڑا قدم اٹھا لیا، بھارت کے لیے بنگلہ دیش کی سرزمین بھی تنگ

ڈھاکہ نے بڑا قدم اٹھا لیا، بھارت کے لیے بنگلہ دیش کی سرزمین بھی تنگ

بھارت کی نجی ایئرلائن اسپائس جیٹ کو مالی واجبات کی عدم ادائیگی پر بڑا دھچکا، بنگلہ دیش نے فضائی حدود کے استعمال سے روک دیا۔

بنگلہ دیشی اخبار ڈیلی سن اور بھارتی جریدے دی اکنامک ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق بقایا جات کی ادائیگی نہ ہونے پر یہ سخت قدم اٹھایا گیا، جس کے بعد خطے میں فضائی آمد و رفت اور سفارتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت، بنگلہ دیش کشیدگی مزید سنگین، مودی سرکار نے بڑا مخاصمانہ قدم اٹھا لیا

میڈیا رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیشی حکام نے واضح کیا ہے کہ جب تک واجبات کی ادائیگی نہیں کی جاتی، اسپائس جیٹ کو بنگلہ دیش کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس فیصلے کے بعد کولکتہ سے شمال مشرقی بھارتی شہروں گوہاٹی اور ایمفال جانے والی پروازیں متبادل اور طویل راستوں سے گزر رہی ہیں۔ اس تبدیلی کے باعث نہ صرف پرواز کا دورانیہ بڑھ گیا ہے بلکہ ایندھن کے خرچ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے کمپنی کے آپریشنل اخراجات مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ہوابازی ماہرین کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی بھارت جانے والی پروازوں کے لیے بنگلہ دیش کی فضائی حدود جغرافیائی طور پر انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اس راستے کی بندش سے ایئرلائن کو فی پرواز اضافی وقت اور ایندھن خرچ کرنا پڑ رہا ہے، جس کا براہ راست اثر کرایوں اور منافع پر پڑ سکتا ہے۔

مالی اعتبار سے بھی صورتحال تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ دسمبر 2025 کو ختم ہونے والی سہ ماہی رپورٹ میں اسپائس جیٹ نے 269 اعشاریہ 27 کروڑ روپے خسارے کا اعلان کیا۔

کمپنی کے شیئرز میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایئرلائن گزشتہ چند ماہ سے مالی دباؤ کا شکار ہے اور مختلف واجبات کی ادائیگی میں تاخیر کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

سفارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض مالی تنازع نہیں بلکہ علاقائی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ عرصے میں بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بعض معاملات پر تناؤ دیکھا گیا ہے، اور فضائی حدود کی پابندی کو بعض حلقے بنگلہ دیش کے خودمختار مؤقف کے اظہار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

تاحال دونوں ممالک کے حکام کی جانب سے کوئی مشترکہ باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بقایا جات جلد ادا نہ کیے گئے تو نہ صرف اسپائس جیٹ کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ مسافروں کو بھی طویل المدت سفری مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خطے کی فضائی صنعت اس پیش رفت کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہے اور آئندہ چند دن اس معاملے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *