سری لنکا کے شہر کولمبو میں آج عالمی 20 اوورز کرکٹ مقابلوں کے اگلے مرحلے کا آغاز ہو رہا ہے جہاں پہلے مقابلے میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کی قومی کرکٹ ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ ماہرین کے نزدیک یہ مقابلہ نہایت اہم ہے کیونکہ ابتدائی کامیابی آئندہ مرحلے تک رسائی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
نیوزی لینڈ کے بلے باز مارک چیپمین نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف کھیلنے کا انہیں بھرپور تجربہ حاصل ہے اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس مضبوط حریف کے خلاف کس حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں دونوں ٹیموں کے درمیان کئی مقابلے ہو چکے ہیں، اس لیے ایک دوسرے کی خوبیوں اور کمزوریوں سے مکمل آگاہی موجود ہے۔
چیپمین نے کہا کہ اس خطے کے موسمی حالات اور میدان کی نوعیت کے پیش نظر قرعہ اندازی انتہائی اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔ نمی، گرمی اور وکٹ کی خصوصیات مقابلے کے نتیجے پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ ان کے مطابق ان کے کئی ساتھی اس میدان پر کھیل چکے ہیں اور میدان و فضا کی نوعیت سے بخوبی واقف ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ برصغیر کی وکٹیں عام طور پر بلے بازوں کے لیے سازگار ہوتی ہیں جبکہ گیند بازوں کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، تاہم دباؤ والے مقابلوں میں صورت حال مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گھومتی گیند کرنے والے کھلاڑی ایسے حالات میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔
چیپمین نے پاکستان کے نوجوان گھومتی گیند کرنے والے کھلاڑی عثمان طارق کے منفرد انداز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوڑ مکمل کرنے کے بعد لمحہ بھر رک جاتے ہیں جس سے بلے باز کے لیے اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس معیاری گھومتی گیند کرنے والوں کی طویل تاریخ موجود ہے اور ہر کھلاڑی کسی بھی لمحے مقابلے کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نیوزی لینڈ کے ہمہ جہت کھلاڑی مچل سینٹنر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ پُرعزم ہیں اور میدان میں اترنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ تیز گیند کرنے والے لوکی فرگوسن بھی دوبارہ دستے میں شامل ہو چکے ہیں، تاہم حتمی کھلاڑیوں کا اعلان مقابلے سے قبل کیا جائے گا۔
دوسری جانب پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم بھی بھرپور تیاری میں مصروف ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹیم انتظامیہ وکٹ کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور امکان ہے کہ اضافی گھومتی گیند کرنے والے کھلاڑی کو شامل کیا جائے۔ بلے بازی میں تسلسل اور درمیانی حصے میں وکٹوں کی حفاظت حکمت عملی کا اہم جزو ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقابلہ نہ صرف اگلے مرحلے کا آغاز ہے بلکہ سیمی مرحلے تک رسائی کے لیے مضبوط بنیاد بھی فراہم کر سکتا ہے۔ دونوں ٹیمیں محتاط مگر جارحانہ انداز اپنائیں گی اور معمولی سی لغزش بھی مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔