نزلہ زکام اور مختلف الرجیز سے پریشان ہونے کی اب ضرورت نہیں ، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نزلہ، فلو، کووِڈ اور الرجی سے بیک وقت بچاؤ دینے والی ایک یونیورسل ویکسین کی تیاری اب حقیقت کے بہت قریب پہنچ چکی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا میں اسٹینفورڈ میڈیسن کے محققین نے چوہوں پر ایک ایسے ویکسین فارمولے کا تجربہ کیا ہے جو مختلف سانس کی وائرل بیماریوں، سیپسس پیدا کرنے والے بیکٹیریا اور یہاں تک کہ گھریلو گرد کے ذرات (ہاؤس ڈسٹ مائٹس) کے خلاف بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
یہ ویکسین ناک کے ذریعے اسپرے کی صورت میں دی جاتی ہے اور پھیپھڑوں میں کئی ماہ تک وسیع حفاظتی اثر برقرار رکھتی ہے۔
اگر یہی ویکسین انسانوں کے لیے تیار کر لی گئی تو سردیوں میں سانس کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ہر سال لگنے والے متعدد ٹیکوں کی ضرورت ختم ہو سکتی ہے، بلکہ یہ مستقبل میں پیدا ہونے والی نئی وباؤں کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
اسٹینفورڈ میڈیسن میں انسٹی ٹیوٹ فار امیونٹی، ٹرانسپلانٹیشن اینڈ انفیکشن کے ڈائریکٹر اور اس تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر مالی پولیندران کا کہناتھا کہ ان کی میری نظر میں یہ مختلف النوع سانس کی بیماریوں کے خلاف ایک حقیقی یونیورسل ویکسین ہے۔
محققین اب اس ویکسین کو انسانوں پر آزمانے کی امید رکھتے ہیں ، سب سے پہلے ایک حفاظتی ٹرائل کیا جائے گا، جس کے بعد ایک بڑا ٹرائل ہوگا، ڈاکٹر پلینڈران کا خیال ہے کہ ناک میں سپرے والی دو خوراکیں لوگوں کو تحفظ دینے کے لیے کافی ہوں گی۔
ان کا اندازہ ہے کہ اگر مالی معاونت مہیا ہوئی تو یہ ویکسین پانچ سے سات سال میں دستیاب ہو سکتی ہے۔