خیبر پختونخوا حکومت نے رمضان احساس پروگرام کے تحت 12 ارب 80 کروڑ روپے کی منظوری دے دی ہے، جس کے ذریعے 10 لاکھ مستحق خاندانوں کو فی خاندان 12,500 روپے فراہم کیے جائیں گے۔ تاہم پروگرام میں مختلف سیاسی عہدوں اور جماعتی تنظیموں کے لیے مخصوص کوٹہ مقرر کیے جانے کے بعد اس کی شفافیت اور منصفانہ تقسیم پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق رمضان پیکج کے تحت ہر رکنِ صوبائی اسمبلی کے لیے کوٹہ رکھا گیا ہے، جبکہ پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی اور 2024 کے عام انتخابات میں ناکام امیدواروں کے لیے بھی کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ مزید برآں پارٹی سے تعلق رکھنے والے ہر تحصیل چیئرمین کے لیے اڑھائی ہزار افراد کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کی ذیلی تنظیموں ،خواتین ونگ، یوتھ ونگ اور آئی ایس ایف ، کو بھی 5، 5 ہزار افراد کا کوٹہ دیا گیا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ جب مستحقین کے انتخاب میں سیاسی نمائندوں اور جماعتی عہدیداران کو کوٹہ دیا جائے تو اس بات کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہو جاتا ہے کہ امداد صرف حقیقی مستحقین تک پہنچے اور کسی قسم کی جانبداری نہ ہو۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ مستحق افراد کی فہرستیں کس بنیاد پر تیار کی جائیں گی اور کیا ان کی آزادانہ جانچ پڑتال یا آڈٹ کا کوئی مؤثر نظام موجود ہوگا؟
حکومتی حکام کے مطابق رمضان احساس پیکج کی تمام رقم محکمہ سماجی بہبود کے تحت بینک کے ذریعے تقسیم کی جائے گی تاکہ مالی لین دین میں شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔ تاہم ماہرین اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ مستحقین کے انتخاب کے لیے واضح معیار، ڈیجیٹل تصدیق اور شکایات کے ازالے کا مؤثر میکنزم متعارف کرایا جائے، تاکہ 12 ارب 80 کروڑ روپے کے اس بڑے ریلیف پیکج کی تقسیم پر کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
رمضان احساس پروگرام مہنگائی کے دباؤ میں گھرے عوام کے لیے ایک اہم ریلیف ثابت ہو سکتا ہے، مگر اس کی اصل کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ کوٹہ سسٹم کے باوجود شفافیت اور میرٹ کو کس حد تک یقینی بنایا جاتا ہے۔