رپورٹس کے مطابق حادثے کے وقت طیارہ فضائی مشق میں مصروف تھا کہ اچانک فنی خرابی کے باعث بے قابو ہوگیا اور ایئربیس کے احاطے میں گر کر تباہ ہوگیا۔ خوش قسمتی سے پائلٹ نے بروقت اجیکٹ کر کے اپنی جان بچا لی اور وہ محفوظ رہا۔ حادثے کے فوری بعد ریسکیو اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس واقعے کے بعد انڈین ایئر فورس نے اپنے تمام تیجس ایم کے ون طیاروں کا دوبارہ تکنیکی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت بھارتی فضائیہ کے پاس 32 تیجس ایم کے ون طیارے موجود ہیں، جنہیں مرحلہ وار آپریشنل ذمہ داریاں سونپی جا رہی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ گزشتہ 2 سال کے دوران تیجس طیارے کا تیسرا بڑا حادثہ ہے۔ پہلا طیارہ 2024 میں بھارتی ریاست راجستھان میں گر کر تباہ ہوا تھا جبکہ دوسرا گزشتہ سال دبئی ایئرشو کے دوران زمین بوس ہوگیا تھا۔ مسلسل حادثات کے باعث طیارے کی کارکردگی اور تکنیکی معیار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئے لڑاکا طیارے کے بیڑے میں ابتدائی مرحلے میں تکنیکی مسائل سامنے آ سکتے ہیں، تاہم بار بار پیش آنے والے حادثات تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔ بھارتی فضائیہ نے حادثے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے جو واقعے کی وجوہات کا تعین کرے گی۔
سوشل میڈیا پر بھی اس حادثے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور صارفین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ’کیا تیجس پروگرام کو مزید تکنیکی جانچ کی ضرورت ہے؟‘ جبکہ بعض حلقوں نے پائلٹ کی محفوظ واپسی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔