تنخواہ وقت پر نہ ملے تو کیا کیا جائے؟ سعودی حکومت کا غیر ملکیوں کیلئے بڑا اعلان

تنخواہ وقت پر نہ ملے تو کیا کیا جائے؟ سعودی حکومت کا غیر ملکیوں کیلئے بڑا اعلان

سعودی عرب کی وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی نے ان کارکنوں اور ملازمین کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں جنہیں مقررہ وقت پر تنخواہ یا اجرت ادا نہیں کی جاتی۔

وزارت کا کہنا ہے کہ ملازمین اب مخصوص شرائط پوری ہونے کی صورت میں اپنے واجبات کے حصول کے لیے براہِ راست قانونی کارروائی کر سکتے ہیں۔

ملازمت کا معاہدہ قابلِ نفاذ دستاویز

وزارت کے مطابق سب سے پہلے ملازم کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اس کا ملازمت کا معاہدہ قابلِ نفاذ دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ حکام نے وضاحت کی ہے کہ اکتوبر 2025 کے بعد رجسٹرڈ یا اپ ڈیٹ کیے گئے ملازمت کے معاہدوں کو قابلِ نفاذ دستاویز تصور کیا جاتا ہے۔

“قیویٰ” پلیٹ فارم

وزارت نے بتایا کہ ملازمین اپنے معاہدے کی قانونی حیثیت کی تصدیق “قیویٰ” پلیٹ فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر یہ جانچا جا سکتا ہے کہ آیا معاہدہ نفاذ کے لیے درکار تمام قانونی تقاضے پورے کرتا ہے یا نہیں۔

“ناجز” پلیٹ فارم

سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق اگر تنخواہ کی مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد 30 دن تک آجر مکمل واجب الادا رقم ادا نہ کرے تو متاثرہ ملازم “ناجز” پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست نفاذِ حکم کی درخواست جمع کرا سکتا ہے۔

لیبر کورٹ

وزارت کا کہنا ہے کہ اس نئی سہولت کے تحت ملازمین کو لیبر کورٹ میں الگ سے مقدمہ دائر کرنے یا پہلے مصالحتی مرحلے سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد کارکنوں کو ان کے مالی حقوق جلد از جلد دلانا اور تنخواہوں کی وصولی کے عمل کو آسان بنانا ہے۔

حکام کے مطابق یہ نظام خاص طور پر غیر ملکی کارکنوں اور نجی شعبے کے ملازمین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا کیونکہ اس سے قانونی پیچیدگیوں میں کمی آئے گی اور اجرتوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

معاہدوں کی قانونی حیثیت کی بروقت جانچ

وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی نے تمام کارکنوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ملازمت کے معاہدوں کی قانونی حیثیت کی بروقت جانچ کریں اور انہیں باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے دستیاب قانونی سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔

سعودی حکومت کا یہ اقدام کارکنوں کے حقوق کے تحفظ، لیبر مارکیٹ میں شفافیت کے فروغ اور آجر و ملازم کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

editor

Related Articles