حکومتی پالیسیوں اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی مؤثر کارکردگی کے باعث پاکستان میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی کےمطابق ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری کے عمل کو آسان، تیز اور شفاف بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہ پاکستان کی مستحکم معاشی سمت، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں نے عالمی سطح پر ملک کی معاشی ساکھ مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال دو ہزار پچیس تا دو ہزار چھبیس کے ابتدائی سات ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے منافع کی بیرون ملک منتقلی ایک ارب ستر کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
اسی عرصے میں غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے منافع کی واپسی میں ستائیس اعشاریہ بانوے فیصد اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا، جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا واضح ثبوت ہےمرکزی بینک کے مطابق غیر ملکی کمپنیوں کو منافع کی واپسی کی مد میں چار سو اعشاریہ انیس ملین ڈالر اور تین سو اکہتر اعشاریہ تین تین ملین ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ عالمی ادارے پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ اور منافع بخش سمجھ رہے ہیں اور باقاعدگی سے حاصل ہونے والے منافع کو اپنے ممالک میں منتقل کر رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کو سب سے زیادہ منافع کی واپسی ہوئی جو چار سو بیالیس اعشاریہ چھہتر ملین ڈالر رہی۔ اس کے بعد چین سے وابستہ کمپنیوں کو چار سو تیرہ اعشاریہ گیارہ ملین ڈالر منافع کی صورت میں واپس ادا کیے گئے۔
امریکا سمیت دیگر ممالک کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی پیشکش ملکی معیشت کے لیے مثبت علامت ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اصلاحاتی عمل اسی رفتار سے جاری رہا تو آنے والے برسوں میں پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری مزید بڑھنے کی توقع ہے ۔