پی ٹی آئی میں اختلافات مزید بڑھنے لگے،علیمہ خان کے انٹرویو پر شاندانہ گلزا ر برہم

پی ٹی آئی  میں اختلافات مزید بڑھنے لگے،علیمہ خان کے انٹرویو پر شاندانہ گلزا ر برہم

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خا ن کی ہمشیر علیمہ خان کے حالیہ انٹرویو کے بعد جماعت کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ اس انٹرویو پر تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی  شاندانہ گلزار نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، جس سے جماعت کے اندر جاری کشیدگی مزید نمایاں ہوگئی ہے۔

 نجی ٹی وی کے مطابق علیمہ خان کے انٹرویو کے بعد شاندانہ گلزار نے پارلیمانی  پارٹی  کے واٹس ایپ گروپ میں اپنا مؤقف پیش کیا، انہوں نے اپنے پیغام میں کسی کا نام لیے بغیر سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے بیانات ایسے حالات کا نتیجہ محسوس ہوتے ہیں جن میں صدمہ، بڑھاپا اور شدید ذہنی دباؤ شامل ہو سکتا ہے۔ ان کے اس بیان کو جماعت کے اندر جاری اختلافات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

شاندانہ گلزار نے مزید کہا کہ اس عمر میں خواتین کو گھر پر اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جماعت کو 8 فروری پر خصوصی توجہ دینے کا کہا گیا تھا، تاہم اسی روز بسنت منانے کی ویڈیو موجود ہے، جسے انہوں نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے اس مؤقف نے پلزٹی  میں نئی بحث کو جنم دیا ہے اور اسے اندرونی اختلافات کی ایک جھلک قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی میں اختلافات شدت اختیار کر گئے، احتجاج کا مستقبل غیر یقینی، قیادت نے تجاویز مسترد کر دیں

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین  بیرسٹر گوہر خان نے سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف ممکنہ کارروائی سے متعلق خبروں کو من گھڑت قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت نے علی امین گنڈاپور کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ انہوں نے علی امین گنڈاپور سے گزارش کی ہے کہ جماعت اس وقت اندرونی اختلافات کی متحمل نہیں ہو سکتی   علی امین گنڈاپور نے اپنے ویڈیو بیان میں معذرت کر کے بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں جماعت کی ترجیح صرف بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہونی چاہیےسیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو تحریک انصاف کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *