عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس مرتبہ عالمی قیمتوں میں کمی کا مکمل ریلیف عوام کو منتقل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 299 روپے 78 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 311 روپے 78 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی جائے گی۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل 68.65 ڈالر فی بیرل، برینٹ کروڈ 71.52 ڈالر فی بیرل جبکہ ابوظہبی مربان کروڈ 65.98 ڈالر فی بیرل پر آ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی طلب و رسد اور بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجوہات ہیں، جس کے باعث کئی ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں بھی کمی متوقع ہے۔
ادھر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے قبل ازیں کہا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا ریلیف عوام کو منتقل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی سے نہ صرف عوام کو براہ راست فائدہ ہوگا بلکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہونے سے دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت دہشتگری برآمد کرتا ہے، کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ بھارت کے پراکسی گروہ ہیں : صائمہ سلیم
اسی طرح وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بھی گزشتہ روز اشارہ دیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کے حوالے سے اپنی سمری حکومت کو بھجوا دی ہے، جس میں 20 سے 50 روپے فی لیٹر تک ممکنہ کمی کی مختلف تجاویز شامل ہیں۔ تاہم حتمی فیصلہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد ہی کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا باضابطہ اطلاق وفاقی حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہی ہوگا، اس لیے موجودہ معلومات سرکاری اعلان تک ذرائع سے منسوب ہیں۔

