پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ اور کال پیکجز کی قیمتوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ ٹیلی کام کمپنیوں نے مختلف ماہانہ اور ہفتہ وار پیکجز کی قیمتیں بڑھانے کے ساتھ ساتھ کئی آفرز میں ڈیٹا کی مقدار بھی کم کر دی ہے، جس پر صارفین کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ جو سپر کارڈ چند ماہ قبل تقریباً آٹھ سو روپے میں دستیاب تھا، اب اس کی قیمت چودہ سو سے انیس سو روپے کے درمیان پہنچ چکی ہے۔ بعض صارفین یہ شکایت بھی کر رہے ہیں کہ سوشل میڈیا اور رات کے اوقات کے خصوصی پیکجز کے نام پر اضافی چارجز لیے جا رہے ہیں یا ڈیٹا کو مخصوص اوقات تک محدود کر دیا گیا ہے۔
ملکی آپریٹرز میں جاز کے ماہانہ سپر ڈوپر پیکج کی قیمت ایک ہزار روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اس کا سپریم پیکج تقریباً تیرہ سو نوے روپے میں دستیاب ہے۔ جاز کا ہفتہ وار فریڈم پیکج سات دن کے لیے پچاس جی بی ڈیٹا، ایک ہزار آن نیٹ منٹس، تین سو آف نیٹ منٹس اور ایک ہزار پیغامات فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح ماہانہ سوشل پلس پیکج تقریباً چھ سو پچاس روپے میں پندرہ جی بی سوشل میڈیا ڈیٹا اور محدود منٹس کی سہولت دیتا ہے۔
زونگ کا ماہانہ سپریم کارڈ تقریباً سترہ سو روپے تک پہنچ چکا ہے۔ کمپنی کا ہفتہ وار ڈیجیٹل میکس پیکج سات دن کے لیے ایک سو جی بی ڈیٹا اور بڑی تعداد میں آن نیٹ و آف نیٹ منٹس فراہم کرتا ہے، جس کی قیمت چھ سو سے سات سو روپے کے درمیان ہے۔ زونگ کا ماہانہ پرو پیکج پچاس جی بی ڈیٹا اور چھ سو آف نیٹ منٹس کے ساتھ چودہ سو روپے سے زائد میں دستیاب ہے۔
یوفون کا سپر کارڈ گولڈ انیس سو روپے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اس کا ہفتہ وار میگا آفر پیکج ڈیڑھ سو جی بی ڈیٹا، دس ہزار آن نیٹ منٹس اور ایک ہزار آف نیٹ منٹس تقریباً چھ سو روپے میں فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح بعض سوشل پیکجز تیس جی بی سوشل ڈیٹا اور محدود منٹس کے ساتھ تیرہ سو روپے کے قریب دستیاب ہیں۔
ٹیلی نار کا ماہانہ الٹی میٹ آفر تقریباً تیرہ سو نوے روپے میں ایک سو پچاس جی بی ڈیٹا فراہم کرتا ہے، جس میں رات کے اوقات کا ڈیٹا بھی شامل ہوتا ہے۔ کمپنی کے سوشل پیکجز نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہیں، جن میں تقریباً تین سو روپے میں چھ جی بی سوشل میڈیا ڈیٹا دیا جا رہا ہے۔ ہفتہ وار الٹی میٹ پیکج بھی صارفین میں مقبول ہے جو کم قیمت میں زیادہ ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ بعض پیکجز میں دن کے اوقات کے لیے محدود ڈیٹا دیا جاتا ہے جبکہ باقی ڈیٹا رات تک محدود کر دیا جاتا ہے، جس سے عملی طور پر استعمال میں کمی آ جاتی ہے۔ ٹیلی کام کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ بجلی اور آپریشنل اخراجات میں اضافے کے باعث نرخ بڑھانا ناگزیر ہو گیا ہے۔