اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ بند کرنے سے متعلق درخواست پر فریقین سے حتمی دلائل طلب کر لیے ہیں اور کیس کی مزید سماعت مئی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر کی عدالت میں ہونے والی سماعت میں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل علی بخاری جبکہ درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت بھی عدالت میں موجود تھے۔
وکیل علی بخاری نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ کی صحت آج بہتر نہیں ہے، اس لیے وہ ذاتی طور پر پیش نہیں ہو سکے۔ عدالت نے اس موقع پر سوال کیا کہ جیل میں بانی سے ملاقات کرانے کے آرڈر پر عمل کیوں نہیں ہوا، جس پر وکیل نے کہا کہ پہلے ہمیں جیل میں ملاقات کی اجازت دی جائے، پھر ہم اپنا جواب جمع کرائیں گے۔
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ سے استفسار کیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور متعلقہ جواب کی کاپی دوسرے فریق کو بھی فراہم کی جائے۔ بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت کی جانب سے ابھی تک کوئی تحریری جواب عدالت کو موصول نہیں ہوا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے وکیل علی بخاری سے کہا کہ آپ بھی اس کیس میں فریق ہیں اور فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا آپ جواب جمع کروانا چاہتے ہیں یا نہیں۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پہلے جیل میں بانی سے ملاقات کی اجازت دی جائے، جس پر عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے مزید کارروائی مئی کے پہلے ہفتے تک کے لیے مقرر کر دی۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے متعلق یہ کیس پارٹی اور ذاتی مفادات دونوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے، اور عدالت کی جانب سے حتمی دلائل طلب کرنے کا مقصد فریقین کے موقف کو واضح طور پر جانچنا ہے تاکہ آئندہ قانونی فیصلہ شفاف انداز میں دیا جا سکے۔