پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے انعقاد کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ دونوں ممالک کے وفود کی آمد کا شیڈول بھی سامنے آ گیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے بھیجے گے وفد کا آج رات اسلام آباد پہنچنے کا امکان ہے جبکہ ایران کے وفد کی کل آمد متوقع ہے۔ ان اعلیٰ سطحی مذاکرات کو خطے کی صورتحال کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ معزز مہمانوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی پلان کے تحت خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ سرکاری عملے کی خصوصی ڈیوٹیاں بھی لگا دی گئی ہیں تاکہ کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
پاکستان کی جانب سے ان مذاکرات کی کامیابی کیلئے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام نے دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے اسلام آباد کو ایک محفوظ اور سازگار مذاکراتی ماحول فراہم کرنے کے لیے تمام اقدامات مکمل کیے ہیں۔
اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکی سفارتخانے کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران انہیں مذاکرات کے حوالے سے کیے گئے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات سے آگاہ کیا گیا اور پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں پر اعتماد میں لیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا یہ کردار خطے میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے اہم پیش رفت ہے، اور اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔