اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بجلی کے شعبے میں نجی شعبے کی شمولیت سے اصلاحات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اور توانائی کے نظام کو زیادہ مؤثر اور جدید بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسابقتی نظام کے فروغ سے صارفین کو سستی، معیاری اور مسلسل بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی، وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ بجلی کی خرید و فروخت کے نظام کو ہول سیل سطح سے لے کر ریٹیل سطح تک بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ توانائی کے شعبے میں شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ہو۔
وفاقی وزیر توانائی نے اپنے خطاب میں وزیر اعظم شہباز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جو اعتماد دیا گیا ہے اس کی بدولت توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا سفر جاری رکھا جا سکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری اداروں کی معاونت کے بغیر توانائی کے شعبے میں پائیدار ترقی ممکن نہیں، اس لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ تمام فیصلے ملکی مفاد میں کیے جا سکیں۔
اویس لغاری نے کہا کہ رویلنگ چارجز کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک سمری وزیر اعظم کو ارسال کر دی گئی ہے اور امید ہے کہ جلد اس معاملے پر پیش رفت ہوگی۔انہوں نے اعلان کیا کہ رواں سال جون تک ابتدائی طور پر دو سو میگاواٹ بجلی کی ترسیل اور خرید و فروخت کے معاہدوں کو حتمی شکل دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ توانائی کے شعبے میں عملی تبدیلی کا آغاز ہو سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ توانائی کے نظام میں اصلاحات کے بارے میں گزشتہ پچیس برسوں سے صرف گفتگو ہوتی رہی ہے مگر اب عملی اقدامات کا دور شروع ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، پیداواری لاگت کم کرنے اور صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مستقبل میں توانائی کا نظام زیادہ مستحکم اور شفاف ہوگا جس سے ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔