روس اور یوکرین جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں، پاکستان کیجانب سے مذاکرات پر زور

روس اور یوکرین جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں، پاکستان کیجانب سے مذاکرات پر زور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

روس، یوکرین جنگ کے 4 سال مکمل ہونے پر سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان تنازع کے حل کیلئے مذاکرات پر زور دیتا آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 2022ء میں بھی روس اور یوکرین کے مذاکرات کی تائید کی، اب بھی چاہتے ہیں دونوں ممالک تنازع کے حل کیلئے دوبارہ بات چیت شروع کریں، فریقین کی علاقائی سلامتی کو مدنظر رکھ کر اقوام متحدہ کا چارٹر استعمال کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں دیرپا امن بامعنی مذاکرات سے ہی آسکتا ہے، امید ہے فریقین سفارتکاری سے مسئلے کا پرامن حل نکالیں گے۔

دوسری جانب یوکرین کے عوام سے اظہارِ  یکجہتی کے لیے پیرس کے ایفل ٹاور پر یوکرین کے جھنڈے کے رنگوں کی لائٹس روشن کی گئیں۔

روس یوکرین جنگ پانچویں سال میں داخل 

واضح رہے کہ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کو چار برس گزر چکے ہیں، اور یہ تنازعہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کا سب سے بڑا بحران بن کر سامنے آیا ہے ،  جنگ اپنے پانچویں سال میں داخل ہو رہی ہے جبکہ اس کے خاتمے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کے تحت ماسکو اور کیف کے وفود سے مذاکرات کیے، تاہم روس کے زیر قبضہ یوکرینی علاقوں کے مستقبل اور جنگ کے بعد سیکیورٹی ضمانتوں جیسے بنیادی اختلافات کے باعث پیش رفت تعطل کا شکار ہے، اس  دوران ہزاروں فوجی مارے جا چکے ہیں اور روسی فضائی حملوں نے یوکرینی شہریوں کو طویل بجلی بندش اور پانی کی قلت جیسے سنگین مسائل سے دوچار کر رکھا ہے۔

بین الاقوامی خبررساں ادارے کی رپورٹ کیمطابق روس یوکرین جنگ کے اعداد و شمار کے حوالے سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ فروری 2022 سے دسمبر 2025 تک روس کو  تقریباً 12 لاکھ اموات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں 3 لاکھ 25 ہزار فوجی شامل ہیں، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد کسی بھی بڑی طاقت کے لیے سب سے زیادہ فوجی جانی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم روس نے جنوری 2023 کے بعد سے میدانِ جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں کی تفصیلات جاری نہیں کیں اور اس سے قبل صرف 6 ہزار سے زائد فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

مزید پڑھیں: پیوٹن جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ

Center for Strategic and International Studies  (سی ایس آئی ایس) کے اندازے کے مطابق یوکرین کو اب تک پانچ سے چھ لاکھ تک فوجی جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں ایک لاکھ چالیس ہزاراموات شامل ہیں۔

یوکرینی صدر ولادی میرزیلنسکی نے حال ہی میں بتایا تھا  کہ جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متعدد لاپتا ہیں ، تاہم ماسکو اور کیف کی جانب سے فوجی نقصانات کے بروقت اعداد و شمار جاری نہیں کیے جاتے اور آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔

دوسری جانب UN Human Rights Monitoring Mission in Ukraine کے مطابق روسی حملے کے بعد سے شہری ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، اگرچہ اسے کم اندازہ قرار دیا جاتا ہے۔

 دسمبر کی رپورٹ میں کہا گیا کہ 40 ہزار 600 سے زائد شہری زخمی ہوئے جبکہ کم از کم 763 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں، 2025 شہریوں کے لیے 2022 کے بعد سب سے ہلاکت خیز سال ثابت ہوا، جس میں 2,514 افراد ہلاک اور 12,142 زخمی ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 31 فیصد زیادہ ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *