پنجاب میں قبضہ مافیا کے خلاف بڑا اور فیصلہ کن اقدام کرتے ہوئے صوبائی حکومت نے سخت سزاؤں اور بھاری جرمانوں پر مشتمل نیا قانونی نظام متعارف کرا دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ پنجاب تحفظ حق ملکیت جائیداد ترمیمی آردیننس 2026 کے تحت غیر قانونی قبضہ باقاعدہ جرم قرار دے دیا گیا ہے اور اس کے مرتکب افراد کے لیے 10 سال تک قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
آرڈیننس کے مطابق صوبے کے ہر ضلع میں ایک جانچ کمیٹی قائم کی جائے گی جس کی سربراہی ڈپٹی کمشنر کریں گے۔ کمیٹی میں ضلعی پولیس افسر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر برائے مال اور متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی قبضے سے متعلق شکایات کا جائزہ لے کر فوری کارروائی کی سفارش کرے گی تاکہ اصل مالکان کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کا رمضان میں شہریوں کو دوکانداروں کا معاشی بائیکاٹ کرنے کا مشورہ،وجہ بھی بتا دی
نئے قانون کے تحت جائیداد کے تنازعات کے فوری اور مؤثر حل کے لیے جائیداد ٹریبونل بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ٹریبونل کو متنازع جائیداد کو سیل کرنے، قبضہ واگزار کرانے اور متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کرنے کے مکمل اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ مزید برآں، ٹریبونل کو ہر مقدمے کا فیصلہ 30 دن کے اندر کرنے کا پابند بنایا گیا ہے تاکہ برسوں پر محیط عدالتی تاخیر کا خاتمہ ہو سکے۔
آرڈیننس میں جھوٹی یا بدنیتی پر مبنی شکایت درج کرانے والوں کے خلاف بھی سخت سزا رکھی گئی ہے۔ غلط شکایت ثابت ہونے پر 5 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ اسی طرح قبضے میں معاونت یا سہولت فراہم کرنے والے افراد کے لیے 3 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
قانون میں یہ شق بھی شامل کی گئی ہے کہ ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف 30 دن کے اندر متعلقہ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکے گی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا بنیادی مقصد اصل مالکان کو فوری اور مؤثر تحفظ فراہم کرنا، لینڈ مافیا کا قلع قمع کرنا اور جائیداد کے معاملات میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کے مطابق نئے اقدامات سے قبضہ مافیا کی سرپرستی اور غیر قانونی سرگرمیوں کا راستہ روکا جا سکے گا اور عام شہریوں کا اعتماد بحال ہوگا۔

