سرکاری ملازمین پر شادی کے حوالے سے نئی پابندیاں عائد

سرکاری ملازمین پر شادی کے حوالے سے نئی پابندیاں عائد

خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمین کے غیر ملکی شہریوں سے نکاح کے حوالے سے نئے اور سخت قواعد و ضوابط نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت اب کسی بھی ملازم کے لیے پیشگی سرکاری اجازت کے بغیر شادی کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

نجی ٹی وی کے مطابق ہیومن ریسورس مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو نہ صرف شادی بلکہ شادی کا وعدہ کرنے سے قبل بھی باقاعدہ منظوری حاصل کرنا ہوگی،یہ اقدام سیکیورٹی اور انتظامی معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

نئے قواعد کے تحت، جو کے پی سول سرونٹس رولز 2026 کا حصہ ہیں، اگر کوئی ملازم بغیر اجازت غیر ملکی شہری سے شادی کرتا ہے تو اس کے خلاف “مس کنڈکٹ” کی کارروائی کی جائے گی، ایسے ملازمین کے خلاف ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز 2011 کے تحت سخت تادیبی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں :صدرِ مملکت نے بچوں کی شادی پر پابندی سے متعلق بل پر دستخط کر دئیے

نوٹیفکیشن کے مطابق خواہش مند ملازمین کو اپنے متعلقہ محکمے کے ذریعے باضابطہ درخواست دینا ہوگی، جس کے ساتھ کریکٹر کلیئرنس سرٹیفکیٹ اور ایک حل نامہ جمع کروانا لازمی ہوگا، اس حلف نامے میں یہ یقین دہانی کرائی جائے گی کہ ان کا ہونے والا شریکِ حیات کسی بھی ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث نہیں ہے۔

حکام کے مطابق حکومت کسی بھی درخواست پر فیصلہ کرنے سے قبل غیر ملکی شہری کی قومیت، اس کے ملک کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات اور سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے گی، اس مقصد کے لیے حساس اداروں کی کلیئرنس رپورٹ بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وہ سرکاری ملازمین جو پہلے ہی غیر ملکی شہریوں سے شادی کر چکے ہیں، ان کے کیسز کا بھی ازسرِنو جائزہ لیا جائے گا، تاہم حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر کسی بھی مخصوص کیس میں رعایت دے سکے۔

یہ نئے قوانین فوری طور پر پورے صوبے میں نافذ العمل ہو چکے ہیں اور تمام سرکاری محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *