بھارتی نیشنل کانگریس نے مصنوعی ذہانت (AI) کے معاملے پر مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے بھارت کو عالمی سطح پر “مذاق” بنا دیا ہے۔
کانگریس کے مطابق جاری AI سمٹ میں چینی روبوٹس کو بھارتی روبوٹس کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ چینی میڈیا نے بھی اس پر بھارت کا مذاق اڑایا ہے۔ کانگریس نے اسے بھارت کے لیے “انتہائی شرمناک” قرار دیا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کانگریس کا کہنا ہے کہ مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ مودی حکومت کے وزیر اشونی ویشنو بھی اسی “جھوٹ” کو فروغ دے رہے ہیں اور بھارتی سمٹ میں چین کے روبوٹس کو پروموٹ کر رہے ہیں۔
کانگریس کے مطابق مودی حکومت نے ملک کی عالمی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے اور AI جیسے اہم شعبے کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے، حالانکہ کانگریس کے مطابق بھارت اپنی ڈیٹا پاور کی بنیاد پر دنیا میں AI کے میدان میں قیادت کر سکتا ہے۔
Instead of leveraging India’s talent and data, the AI summit is a disorganised PR spectacle – Indian data up for sale, Chinese products showcased. https://t.co/5liaoX0XXp
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) February 18, 2026
کانگریس نے حکومت کے رویے کو “ڈھٹائی اور بے شرمی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل بھارت کے لیے باعثِ شرمندگی ہے۔
دوسری جانب کانگریس رہنما راہول گاندھی نے بھی AI سمٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت کی صلاحیت اور ڈیٹا سے فائدہ اٹھانے کے بجائے یہ سمٹ ایک غیر منظم PR تماشہ بن چکی ہے، جہاں “بھارتی ڈیٹا فروخت کے لیے موجود ہے اور چینی مصنوعات نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔”
India’s biggest business summit in years descended into chaos after hundreds of delegates were left stranded without food or water during a sudden security lockdown https://t.co/pEKyz8Jhd0
— Bloomberg (@business) February 17, 2026
عالمی جریدے بلوم برگ نے بھی نئی دہلی میں ہونے والی اے آئی سمٹ کے انتظامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ بھارت کے سب سے بڑے بزنس سمٹ میں اُس وقت شدید بدنظمی دیکھنے میں آئی جب اچانک سکیورٹی لاک ڈاؤن کے باعث سینکڑوں مندوبین کھانے اور پانی کے بغیر پھنس گئے۔
رپورٹ کے مطابق سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا، جس کے نتیجے میں شرکاء کو کئی گھنٹوں تک سمٹ کے مقام پر بنیادی سہولیات کے بغیر انتظار کرنا پڑا، جس پر مندوبین نے سخت ناراضی کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ بھارتی دارالحکومت میں ہونے والی اس نمائش کے دوران گالگوٹیاس یونیورسٹی کو اس وقت آن لائن ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جب قومی اے آئی سربراہی اجلاس میں دکھائے جانے والے روبوٹک کتے کی شناخت چینی ساختہ مصنوعات کے طور پر کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاستی دہشتگردی، سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے متاثرین 19 سال بعد بھی انصاف کے منتظر
یہ تنازعہ دہلی میں انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران سامنے آیا، جہاں یونیورسٹی کے نمائندوں نے اپنے اے آئی ماحولیاتی نظام کے حصے کے طور پر ایک روبوٹک کتا پیش کیا۔
پریزنٹیشن کے دوران پروفیسر نیہا سنگھ نے روبوٹ کو متعارف کرایا اور اس کے ممکنہ استعمال، جن میں نگرانی اور کیمپس ایپلی کیشنز شامل ہیں، پر تبادلہ خیال کیا۔ اس مظاہرے کا مقصد ادارے کی تکنیکی صلاحیتوں کو ظاہر کرنا تھا۔
تاہم سوشل میڈیا صارفین نے روبوٹ کی شناخت تجارتی طور پر دستیاب ایک چینی ماڈل کے طور پر کی، جس کے بعد یونیورسٹی نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس نے کبھی بھی روبوٹ کو اپنی ایجاد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔

