ضلع کرم کے غیور عوام نے پاک افغان سرحدی صورتحال کے تناظر میں دو ٹوک اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی جانب سے کسی بھی ممکنہ حملے یا دراندازی کی صورت میں یہ کسی فرقے کی نہیں بلکہ وطن کے دفاع کی جنگ ہوگی۔
کرم کی سرزمین کے بہادر شہری افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کے لیے پاک افغان بارڈر کے قریب جمع ہوئے جہاں انہوں نے قومی پرچم تھام کر اتحاد اور یکجہتی کا عملی مظاہرہ کیا۔ شرکا کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور بیرونی جارحیت کے خلاف پوری قوم ایک ہے اور دشمن کو واضح پیغام دیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کا دفاع ہر قیمت پر کیا جائے گا۔
عوامی نمائندوں اور مقامی مشران کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا کہ یہاں نہ شیعہ ہے نہ سنی، یہاں صرف پاکستانی ہیں جو اپنی مٹی کے تحفظ کے لیے ایک صف میں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر اس سرزمین کو میلی آنکھ سے دیکھیں گے انہیں عوام کے اتحاد اور قومی یکجہتی کا سامنا کرنا ہوگا۔
شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہر حال میں اپنی بہادر پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور وطن کی سلامتی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کی ہر سازش کو اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا۔
مقامی عمائدین نے اس موقع پر زور دیا کہ فرقہ واریت کو ہوا دینے کی ہر کوشش کو مسترد کیا جائے گا کیونکہ سرحدی علاقوں کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ انتشار دشمن کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرم کے عوام نے ہمیشہ امن، ہم آہنگی اور ملکی دفاع میں اہم کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی یہی روایت برقرار رکھی جائے گی۔
سیاسی و سماجی مبصرین کے مطابق کرم میں عوامی سطح پر اس نوعیت کا اجتماع قومی یکجہتی کا مضبوط پیغام ہے جو نہ صرف سرحد پار بلکہ اندرون ملک بھی واضح اشارہ دیتا ہے کہ پاکستانی قوم دفاع وطن کے معاملے پر متحد ہے۔ عوام کے اس اعلان کو خطے کی بدلتی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔