پاکستان کی افغانستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی، کن کن دہشتگردوں کو نشانہ بنایا گیا اور کون سے اہم کمانڈرز واصل جہنم ہوئے ؟ تمام نام منظرعام پرآگئے
Home - تازہ ترین - پاکستان کی افغانستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی، کن کن دہشتگردوں کو نشانہ بنایا گیا اور کون سے اہم کمانڈرز واصل جہنم ہوئے ؟ تمام نام منظرعام پرآگئے
پاکستان نے سرحد پار افغانستان کے مختلف علاقوں میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج دہشتگردوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف زبردست اور منظم کارروائیاں کیں’ جن میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) سے وابستہ 77 سے زیادہ کمانڈرز اور جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں ۔ یہ کارروائیاں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئیں’ جہاں تربیتی کیمپ اور اسلحہ ڈپو موجود تھے۔
پکتیکا صوبہ میں کارروائی
پکتیکا صوبہ کے ضلع برمل میں قائم کیمپ الجہاد میں ہلاک ہونے والوں میں احمد خان ولد محمد گاؤں بالا حصار صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان، محمد یوسف ولد اسماعیل گاؤں شیرخان صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان، عبد اللہ ولد ولی گاؤں کلی حلیم صوبہ بلوچستان پاکستان، سمیع اللہ ولد حمید گاؤں دشت ارچی صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان، نور احمد ولد ناصر گاؤں برمل صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان شامل ہیں۔
اسی طرح حامد اللہ ولد سعید گاؤں جاغوری صوبہ بلوچستان پاکستان، جمیل احمد ولد فرید گاؤں خان آباد صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان، ناصر احمد ولد عبد الحق گاؤں چمکاری صوبہ غزنی افغانستان، سلیمان خان ولد محمد گاؤں دشت لار صوبہ بلوچستان پاکستان، فیاض احمد ولد گل محمد گاؤں خرانی صوبہ پنج شیر افغانستان، شهاب الدین ولد حکمت گاؤں شینوار صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان، کریم اللہ ولد حامد گاؤں شہرک صوبہ بلوچستان پاکستان شامل ہیں۔
اسی طرح حبیب اللہ ولد نادر گاؤں چرخ سوات صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان، رضا خان ولد احمد گاؤں پشت رود صوبہ بلوچستان پاکستان، قیس احمد ولد نعمت گاؤں مہترلام ضلع دیر بالا پاکستان، یوسف جان ولد سید گاؤں بڈھ بیر صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان، فضل اللہ ولد عبد اللہ گاؤں شیخ آباد صوبہ بلوچستان پاکستان، نادر احمد ولد رحمت گاؤں سنگ توت ضلع شمالی وزیرستان پاکستان شامل ہیں۔
پکتیکا صوبے میں کارروائی میں مزید ہلاک ہونے والوں میں نعمت اللہ ولد حامد گاؤں نجراب صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان، رفیق اللہ ولد یوسف گاؤں برلای صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان، رحمت اللہ ولد فرید گاؤں قلعہ نو صوبہ بلوچستان پاکستان اور بشیر احمد ولد اسماعیل گاؤں دشت شور صوبہ بلوچستان پاکستان شامل ہیں۔
خوست کے سرحدی علاقے میں کارروائی
اسی طرح خوست صوبہ کے سرحدی علاقوں میں بھی کارروائی کی گئی جہاں مبینہ طور پر حقانی نیٹ ورک کا اثر و رسوخ بتایا جاتا ہے۔ یہاں بلال خان ولد محمد خان گاؤں شیران ضلع سوات پاکستان، اسد اللہ ولد کریم اللہ گاؤں غرمیان ضلع خیبر پاکستان، طاہر حسین ولد قادر حسین گاؤں پشمک ضلع میانوالی پاکستان اور شعیب احمد ولد رحمت احمد گاؤں نو آباد ضلع شمالی وزیرستان پاکستان ہلاک ہوئے۔
ننگرہار میں کیمپ تباہ
مزید کارروائی ننگرہار صوبہ کے اضلاع خوگیانی، غنی خیل اور بہسود میں قائم مبینہ کیمپوں میں کی گئی۔ یہاں نیک محمد ولد حامد گاؤں پنجوایی صوبہ قندہار افغانستان، احمد ولد محمد گاؤں مینگورہ سوات صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان، فضل احمد ولد رحمت گاؤں کالام سوات صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان، ناصر ولد کریم گاؤں برمل خیبر پاکستان شامل ہیں۔
اسی طرح حبیب ولد ولی گاؤں میران شاہ ضلع شمالی وزیرستان پاکستان، شفیق ولد نعمت گاؤں دکلان ضلع بہاولپور پاکستان، سمیع ولد نادر گاؤں سنگلا ضلع ڈیرہ غازی خان پاکستان، کریم ولد حامد گاؤں بنوں صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان، رفیق ولد عبد اللہ گاؤں کالا سوات صوبہ خیبر پختونخواہ پاکستان، نعمت ولد فرید گاؤں دھکی ضلع شمالی وزیرستان پاکستان اور یاسر ولد رحمت گاؤں میران شاہ ضلع شمالی وزیرستان پاکستان شامل ہیں۔
سرکاری مؤقف اور علاقائی صورتحال
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں سرحد پار حملوں اور دراندازی کے واقعات کے تناظر میں کی گئیں اور ان کا مقصد بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج دہشتگردوں کے ڈھانچے کو کمزور کرنا تھا۔ دوسری جانب افغان حکام کی جانب سے تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ اس نوعیت کی کارروائیاں خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں اور امن کے قیام میں مدد دے سکتی ہیں، پائیدار امن کے لیے دوطرفہ رابطہ اور مؤثر بارڈر مینجمنٹ ناگزیر ہے تاکہ خطے کو مزید کشیدگی سے بچایا جا سکے۔