چوری شدہ نایاب سنہری ہیلمٹ برآمد، یورپ میں ہلچل مچانے والا کیس انجام کو پہنچ گیا

چوری شدہ نایاب سنہری ہیلمٹ برآمد، یورپ میں ہلچل مچانے والا کیس انجام کو پہنچ گیا

یورپ کی آرٹ دنیا کو ہلا دینے والا سنسنی خیز کیس بالآخر ایک بڑی کامیابی کے ساتھ ختم ہوا جب قدیم رومانین تہذیب سے تعلق رکھنے والا بے حد قیمتی سنہری ہیلمٹ برآمد کر لیا گیا۔ یہ نایاب خزانہ جنوری میں ایک میوزیم سے چوری ہو گیا تھا، جہاں اسے عارضی نمائش کے لیے رکھا گیا تھا۔

یہ ہیلمٹ، جسے ’کوٹوفینیشتی ہیلمٹ‘کہا جاتا ہے تقریباً 450 قبل مسیح میں ڈیشیا تہذیب کے دور میں خالص سونے سے تیار کیا گیا تھا۔ اس تہذیب نے کوئی تحریری ریکارڈ نہیں چھوڑااس لیے ایسے نوادرات ہی ان کی شناخت اور مہارت کا واحد ثبوت سمجھے جاتے ہیں۔ ہیلمٹ پر دیومالائی مناظر کندہ ہیں جبکہ اس کا مخصوص ڈیزائن اسے نہ صرف منفرد بلکہ ناقابلِ فروخت بھی بناتا ہے۔

یہ  بھی پڑھیں:دنیا کے سب سے بڑے قدیم نوادرات کے عجائب گھر ’گرینڈ ایجپشن میوزیم (GEM)‘ کا مصر میں افتتاح

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب رومانیا کے ایک میوزیم نے اپنی تاریخی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے اس قومی خزانے کو نیدرلینڈز کے شہراسن کے ڈرینٹس میوزیم میں 6ماہ کی نمائش کے لیے بھیجا۔ تاہم چند ہی دنوں بعد چوروں نے میوزیم میں گھس کر ہیلمٹ اور تین سنہری کنگن چرا لیے جس پر رومانیا اور نیدرلینڈز کے درمیان سفارتی سطح پر بھی کشیدگی پیدا ہو گئی۔

پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا اور بالآخر پلی بارگین کے ذریعے ہیلمٹ اور دو کنگن برآمد کر لیے گئے۔ حکام کے مطابق اس کامیابی کے پیچھے کئی دنوں کی تفتیش اور تحقیق شامل ہے۔ پولیس کو اس بات کاخدشہ تھا کہ چور اسے پگھلا کر فروخت کر دیں گے مگر خوش قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔

اگرچہ ایک کنگن اب بھی لاپتہ ہے اور ہیلمٹ کو بھی چوری کے دوران نقصان پہنچا تاہم رومانین حکام پرامید ہیں کہ باقی ماندہ خزانہ بھی جلد برآمد کر لیا جائے گا۔یہ واقعہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ تاریخ صرف ماضی نہیں بلکہ ایک قیمتی امانت ہے جس کی حفاظت میں معمولی سی غفلت بھی عالمی سطح کا بحران بن سکتی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *